سہیل آفریدی اور مینا خان کی جانب سے’آئی ایس ایف‘ کا قیام تعلیمی اداروں میں منشیات کا نیٹ ورک قائم کرنا تھا، رضوان رضی کا بڑا انکشاف
Home - آزاد انتخاب - سہیل آفریدی اور مینا خان کی جانب سے’آئی ایس ایف‘ کا قیام تعلیمی اداروں میں منشیات کا نیٹ ورک قائم کرنا تھا، رضوان رضی کا بڑا انکشاف
پاکستان کے معروف تجزیہ کار رضوان رضی نے دعویٰ کیا ہے کہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن (آئی ایس ایف) کا قیام تعلیمی اداروں میں منشیات کا نیٹ ورک قائم کرنا تھا اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید کا حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والا انٹرویو اصل نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
آزاد سیاست کے ایک پوڈ کاسٹ میں رضوان رضی کا کہنا ہے کہ مراد سعید کے انٹرویو کی ویڈیو میں نہ تو مراد سعید کا روایتی لب و لہجہ موجود ہے اور نہ ہی ان کے مخصوص تاثرات نظر آ رہے ہیں۔
رضوان رضی کے مطابق مراد سعید جب بھی گفتگو کرتے ہیں ان کا رویہ انتہائی جارحانہ ہوتا ہے اور ان کی آنکھیں ان کے جذبات کی عکاسی کرتی ہیں، جو کہ اس ویڈیو میں بالکل بھی ایسا نہیں تھا۔
صحافی نے مزید سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ خیبر پختونخوا میں ’انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘ (آئی ایس ایف) کی تشکیل کا ایک مقصد تعلیمی اداروں میں ایک مخصوص نیٹ ورک قائم کرنا تھا، جس کی آڑ میں مبینہ طور پر منشیات کا کاروبار کیا جا رہا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کل تعلیمی اداروں میں طلبہ کا تعارف علمی سرگرمیوں کے بجائے منشیات کی دستیابی اور ’سیگریٹ‘ بھرنے کی مہارت پر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بنوں میں ایک ماہ کے دوران دہشتگردی کا یہ 22 واں حملہ تھا، صوبائی حکومت کی یہ بڑی نا اہلی ہے جبکہ انہیں دہشتگردوں سے لڑنے کے لیے بھرپور تعاون بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کئی سیاسی رہنماؤں کے اے آئی سے تیار کردہ آڈیو اور ویڈیو کلپس منظرِ عام پر آ چکے ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں، بالخصوص جامعات میں منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے، جس پر اب سیاسی تنظیموں کے ملوث ہونے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
بنوں اور لکی مروت جیسے اضلاع میں حالیہ چند ہفتوں میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں تیزی آئی ہے، جس نے مقامی انتظامیہ اور وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کی کارکردگی پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔
ٹیکنالوجی، منشیات اور دہشتگردی
رضوان رضی کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر مراد سعید کا انٹرویو واقعی اے آئی سے تیار شدہ ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ویڈیو ثبوتوں کی قانونی اور اخلاقی حیثیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ عمل سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے یا روپوش رہنماؤں کی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ایک خطرناک ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔
تعلیمی اداروں میں علمی تھیسز کی جگہ ’پوڈر‘ اور ’بھرتے‘ کے تذکرے کا ہونا ایک نسل کی تباہی کی نشاندہی کرتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اسٹوڈنٹ ونگز کا ایسے کاموں میں نام آنا ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ یہ نوجوانوں کو سیاسی کارکن کے بجائے جرائم پیشہ گروہ کا حصہ بنا رہا ہے۔
بنوں میں ایک ماہ میں 22 حملے محض اتفاق نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ایک منظم سیکیورٹی ناکامی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دہشتگرد عناصر نے ان علاقوں میں گہری جڑیں بنا لی ہیں جہاں وہ تسلسل کے ساتھ کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور صوبائی حکومت اس پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔