برطانیہ میں مقامی انتخابات کے غیر متوقع نتائج کے بعد سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور حکمراں جماعت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات بڑھ گئے ہیں جبکہ متعدد اراکین اسمبلی کے استعفوں اور وزیراعظم سے اعتماد کا ووٹ لینے کے مطالبے نے سیاسی بحران کو جنم دے دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر پر اپنی قیادت سے متعلق دباؤ بڑھتا جا رہا ہے تاہم انہوں نے تاحال استعفیٰ دینے کے حوالے سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں قیادت کی تبدیلی کے امکانات پر بھی غور شروع ہو گیا ہے۔
اسی صورتحال میں پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان شبانہ محمود کا نام نئے ممکنہ وزیراعظم کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگر پارٹی میں قیادت کی تبدیلی ہوتی ہے تو وہ مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔ ان کے والدین کا تعلق پاکستان کے علاقے آزاد کشمیر سے ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق لیبر پارٹی کے اندرونی دباؤ اور اراکین کی تقسیم کے باعث آئندہ چند روز میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔ تاہم ابھی بھی متعدد اراکین وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حمایت میں موجود ہیں جس کے باعث صورتحال مکمل طور پر غیر یقینی ہے۔ آنے والے دنوں میں برطانوی سیاست میں بڑی پیشرفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔