بھارت کا پاکستان کے خلاف ایک اور ’فالس فلیگ‘ ڈرامہ سامنے آگیا

بھارت کا پاکستان کے خلاف ایک اور ’فالس فلیگ‘ ڈرامہ سامنے آگیا

بھارت میں نریندر مودی سرکار نے ایک اور ’فالس فلیگ‘ کا ڈرامہ رچانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں، گزشتہ ہفتے بھارتی شہر جالندھر میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے پنجاب فرنٹیئر ہیڈکوارٹر کے باہر ہونے والے آئی ای ڈی دھماکے کا بے بنیاد الزام ایک بار پھر پاکستان پر عائد کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

بھارتی حکام نے ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد ایک اور فالس فلیگ ڈرامے کے لیے کہانی بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ جالندھر دھماکے کے ماسٹر مائنڈ پاکستانی شہری ’شہزاد بھٹی‘ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ دھماکہ جالندھر میں واقع بی ایس ایف کی حساس تنصیب کے قریب ہوا، جس کے بعد پورے پنجاب میں سیکیورٹی ادارے الرٹ ہو گئے۔ بھارت پہلے واقعے کے چند گھنٹوں بعد امرتسر میں بھی ایک اور دھماکہ رپورٹ ہوا، جس میں مبینہ اطلاعات کے مطابق بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے خود ایک دفاعی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

بھارتی پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس گورو یادو نے ابتدائی طور پر الزام عائد کیا کہ فرانزک تحقیقات سے تصدیق ہوئی کہ دونوں دھماکوں میں دیسی ساختہ بم استعمال کیے گئے۔ واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مختلف اضلاع میں چھاپے مارے اور متعدد افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔

بھارتی حکام نے پہلے بتایا کہ تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مرکزی ملزم انیل شرما کو گرفتار کیا گیا، جو بھارتی ریاست اتر پردیش کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ پولیس نے اب تک اس کیس میں کم از کم 17 افراد کو گرفتار کر رکھا ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق دھماکوں کے فوراً بعد ’خالصتان لبریشن آرمی‘ نامی ایک گروپ نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

 تاہم پنجاب پولیس نے اس تنظیم کو ایک غیر حقیقی اور مبینہ طور پر پراکسی گروپ قرار دیا۔ ڈی جی پی گورو یادو نے کہا کہ ایسے گروہوں کو پنجاب کو غیر مستحکم اور بدامنی کا شکار ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ ان کے پیچھے بیرونی خفیہ نیٹ ورکس کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اب ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھارتی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ کو شہزاد بھٹی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن کا تعلق مبینہ طور پر پاکستان سے ہے، بھارت کے یہ الزامات ایک بار پھر پہلگام فالس فلیگ کی طرح ایک اور ڈرامے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نئی دہلی بغیر کسی حتمی ثبوت کے ایک بار پھر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت ماضی میں بھی اپنے داخلی واقعات کا الزام پاکستان پر عائد کرتا رہا ہے اور ایسے الزامات سیاسی مقاصد اور پاکستان کے خلاف ایک اور ’فالس فلیگ‘ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

پاکستانی حلقوں نے بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے پاکستان کے اندر پراکسی عناصر کی حمایت کے واضح ثبوت موجود ہیں اور ایسی حرکتیں بھارت ہی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اس قسم کے واقعات کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے اور دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

تازہ الزامات کے بعد دونوں ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Related Articles