وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مبینہ منشیات فروش انمول پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق اعلیٰ پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ کیس کی تحقیقات میں مزید اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کو نیٹ ورک کے مبینہ روابط سرگرمیوں اور مختلف شہروں میں موجود مبینہ سہولت کاروں کے حوالے سے ابتدائی معلومات فراہم کی گئی ہیں جس کے بعد مزید جامع رپورٹ تیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ادھر سی سی ڈی نے بھی انمول پنکی کے مبینہ نیٹ ورک سے متعلق باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تفتیشی حکام مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں مبینہ روابط، ترسیل کا نظام اور مختلف شہروں میں سرگرمیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے مبینہ شوہر جو سابق پولیس اہلکار بتائے جا رہے ہیں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ سی سی ڈی حکام ان سے کیس سے متعلق مختلف معاملات پر پوچھ گچھ کریں گے تاکہ نیٹ ورک کے ممکنہ روابط اور سرگرمیوں سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
تحقیقات میں لاہور میں درج ایک پرانے مقدمے کو بھی دوبارہ زیرِ غور لایا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق لاہور میں درج مقدمے میں انمول پنکی کی طلبی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور امکان ہے کہ ملزمہ کو تفتیش کے لیے لاہور منتقل کیا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز انمول پنکی کے بھائی کے خلاف لاہور میں درج ایک مقدمے کی تفصیلات بھی سامنے آئی تھیں۔ لاہور پولیس کے مطابق 2022 میں تھانہ کوٹ لکھپت میں ریاض بلوچ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں دورانِ تفتیش اس نے اپنی بہن انمول عرف پنکی کا ذکر کیا تھا۔