وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے کرپشن سے متعلق متضاد بیانات نےنیا پینڈورا باکس کھول دیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے کرپشن سے متعلق متضاد بیانات نےنیا پینڈورا باکس کھول دیا

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ دو متضاد بیانات نے صوبے میں کرپشن کے بارے میں نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔

وزیراعلیٰ ماضی میں اپنے بیانات میں اکثر کرپشن کے خاتمے کے دعوے کرتے رہے ہیں اور میڈیا کی جانب سے کرپشن کی نشاندہی کرنے پر انھیں مسترد کرتے ہوئے ثبوت طلب کرتے رہے ہیں۔ تاہم، حالیہ دنوں میں ان کے بیانات میں تضاد نے اس دعوے کی صداقت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر کا نظام اب وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے تحت شفاف طریقے سے چلایا جا رہا ہے تاکہ اقربا پروری کا خاتمہ ہو سکے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات کرپشن کی روک تھام کے لیے کیے گئے ہیں اور صوبے کے انتظامی امور میں شفافیت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، وزیراعلیٰ نے کرپشن کے الزامات پر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ صوبے میں 49 افسران کے خلاف انکوائریاں جاری ہیں، جبکہ 19 افسران کو معطل کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ، سنگین الزامات ثابت ہونے پر 17 اہلکاروں کو ملازمت سے فارغ کیا جا چکا ہے اور 150 سے زائد کیسز اس وقت مختلف مراحل میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ‏عمران خان کی رہائی کے لیے ہمیں” مرد “ چاہیے ،مانسہرہ جلسے میں کارکن سہیل آفریدی پر برس پڑے

وزیراعلیٰ کے ان بیانات سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ ماضی میں میڈیا کی جانب سے خیبر پختونخوا میں کرپشن کی جو رپورٹس سامنے آئی تھیں، وہ حقیقت پر مبنی تھیں۔ صوبے میں کرپشن کا بازار گرم رہا ہے اور اس میں مبینہ طور پر وزیراعلیٰ اور وزیر تعلیم مینا خان آفریدی کے فرنٹ مین بھی ملوث رہے ہیں۔

یہ متضاد بیانات صوبے میں کرپشن کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے کئی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ کیا یہ کارروائیاں صرف دکھاوے کی ہیں یا واقعی کرپشن کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

Related Articles