ھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے پاکستان کے حوالے سے اہم اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہیں بلکہ اس پالیسی کے نتیجے میں بھارت خود سفارتی سطح پر مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو د ئیے گئے انٹرویو میں اے ایس دلت نے کہا کہ پاکستان کے خلاف پرانا بیانیہ اب مؤثر نہیں رہا اور خطے کی بدلتی صورتحال میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نہ کبھی ٹوٹے گا اور نہ ہی بکھرے گا۔
سابق بھارتی انٹیلی جنس چیف کے مطابق اس وقت پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی جیسے اہم سفارتی کردار میں سامنے آ رہا ہے، جبکہ بھارت کو خطے میں ایسا کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی سفارتی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اے ایس دلت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کبھی بند نہیں ہونی چاہیے کیونکہ جنگ اور کشیدگی کسی مسئلے کا حل نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل دتاتریہ ہوسابالے بھی پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کر چکے ہیں۔ بعد ازاں بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل منوج نروانے نے بھی کہا تھا کہ دونوں ممالک کے عوام کے مسائل ایک جیسے ہیں اور انہیں سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا چاہیے۔
مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے پاکستان سے مذاکرات کے حوالے سے بھارتی حلقوں میں سامنے آنے والے بیانات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور تمام تنازعات کا حل صرف بات چیت میں ہے۔
اپنے ایک بیان میں فاروق عبداللہ نے پاکستان سے مذاکرات کے لیے آر ایس ایس کے رہنما اور سابق بھارتی آرمی چیف کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آخرکار کسی نے یہ تسلیم تو کیا کہ جنگ کوئی آپشن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا مستقل حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔