عالمی ٹیکنالوجی کی جنگ (ٹیک وار) میں ایک ایسا ڈرامائی موڑ سامنے آیا ہے جس نے واشنگٹن کے مقتدر حلقوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
امریکی حکومت کی جانب سے برسوں کے سخت ترین معاشی و تکنیکی محاصرے اور کڑی پابندیوں کا شکار رہنے والی چینی کمپنی ’ہواوے‘ راکھ سے اٹھنے والے فینکس پرندے کی طرح مکمل طور پر خود کفیل ہو کر ابھری ہے۔
دوسری جانب امریکا کی تکنیکی پہچان اور دنیا کا سب سے بڑا سٹرٹیجک برانڈ ’ایپل‘ اب بھی اپنے 80 فیصد پرزوں اور سپلائی چین کے لیے اپنے سب سے بڑے حریف ملک چین کا محتاج ہے۔
ایپل کا چین پر انحصار اور بھارت کا ناکام سراب
دستیاب دستاویزی حقائق کے مطابق، واشنگٹن جس ملک کو اپنا سب سے بڑا سٹرٹیجک اور اقتصادی حریف قرار دیتا ہے، اسی ملک کا نظام ایپل کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔
آئی فون کی تیاری کے لیے درکار اہم ترین پرزے بشمول، جدید ترین ڈسپلے اسکرینز، اعلیٰ معیار کی بیٹریاں، جدید کیمرے اور سینسرز شامل ہیں، سب کے سب چین ہی کی فیکٹریوں میں تیار ہوتے ہیں۔
ایپل اپنے 80 فیصد سپلائرز کے لیے چین پر انحصار کرتا ہے۔ اس محتاجی کو کم کرنے کے لیے ایپل نے متبادل کے طور پر بھارت میں اپنی پیداوار بڑھانے کا جو میگا منصوبہ شروع کیا تھا، وہ ایک سراب ثابت ہو چکا ہے۔
فیلڈ رپورٹس بتاتی ہیں کہ جب بھی چینی انجینیئرز چھٹیوں پر جاتے ہیں، تو بھارت میں واقع ایپل کی فیکٹریاں تکنیکی مہارت کی کمی کے باعث کام کرنا بند کر دیتی ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ اور تیکنیکی مہارت میں اس وقت چین کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
ہواوے کی خود کفیلی، پابندیاں جو لائف لائن بن گئیں
اس کے برعکس ہواوے کی کہانی بالکل مختلف اور حیران کن ہے۔ امریکی پابندیوں نے ہواوے کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے بجائے اسے ایک ایسا موقع فراہم کیا کہ وہ غیر ملکی ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر آزاد ہو جائے۔ ہواوے نے امریکی بلیک لسٹنگ کے جواب میں درج ذیل سنگِ میل عبور کیے:
مصنوعی ذہانت کے چپس
ہواوے نے اپنے ’ایسنیڈ‘ نامی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کے چپس خود تیار کر لیے ہیں جو امریکی اجارہ داری کو چیلنج کر رہے ہیں۔
مقامی انفراسٹرکچر
کمپنی نے اپنے ذاتی سرورز اور چپ بنانے والی فیکٹریاں (فاؤنڈریز) چین کے اندر ہی قائم کر لی ہیں۔
کیرن چپس کا دھماکہ
ہواوے نے اس وقت پوری دنیا اور امریکی انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا جب اس نے اپنے مکمل مقامی طور پر تیار کردہ ’کیرن چپس‘ کے ساتھ ’میٹ 60‘ اسمارٹ فون سیریز لانچ کی۔ یہ لانچنگ اسٹرٹیجک طور پر عین اس وقت کی گئی جب امریکی وزیرِ تجارت چین کے سرکاری دورے پر موجود تھیں۔
مارکیٹ میں برتری
آج ہواوے دنیا بھر میں فولڈ ایبل اسمارٹ فونز کی مارکیٹ میں سب سے آگے نکل چکا ہے اور سال 2026 کی پہلی ششماہی کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی کی آمدنی میں 40 فیصد کا حیران کن اور ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
آئی فون کے لیے ٹرمپ کا مطالبہ اور 3500 ڈالر کا دھچکا
ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی اقتصادیات کے ماہرین کے مطابق، ایپل کے لیے اس وقت سب سے بڑا خطرہ نومنتخب ٹرمپ انتظامیہ کا وہ سخت مطالبہ ہے جس میں ایپل کو اپنی تمام تر پروڈکشن اور اسمبلنگ لائنز چین سے واپس امریکا منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ماہرین کی مائیکرو اکنامک کیلکولیشنز بتاتی ہیں کہ امریکا میں لیبر کاسٹ (مزدوری کی شرح) اور خام مال کی لاگت چین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
اگر آئی فون کی اسمبلی کو زبردستی امریکا منتقل کیا گیا، تو جو آئی فون اس وقت مارکیٹ میں تقریباً 1200 ڈالر کا ملتا ہے، اس کی پیداواری لاگت بڑھنے کے بعد اس کی قیمت 3000 سے 3500 ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ عالمی مارکیٹ اتنے مہنگے فون کو یکسر مسترد کر دے گی، جس سے ایپل کا شیئر بازار زمین بوس ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ واشنگٹن کی معاشی پابندیاں ہواوے کو ختم کرنے کے اپنے بنیادی مقصد میں بری طرح ناکام رہیں۔ ان پابندیوں نے الٹا ہواوے کو ایک ناقابلِ شکست خود کفیل دیو بنا دیا، جبکہ امریکی فخر ’ایپل‘ اب بھی بیجنگ کے اسی صنعتی نظام کا یرغمال بنا ہوا ہے جسے وائٹ ہاؤس اپنے تئیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔