بین الاقوامی سفارتی اور عسکری محاذ پر پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی اسٹرٹیجک کامیابی سامنے آئی ہے جس میں امریکا نے خطے میں امن و استحکام کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کی کوششوں میں پاکستان کی اہمیت کو مروجہ سفارتی اصولوں سے بڑھ کر تسلیم کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے امریکی سینیٹ کی بااثر کمیٹی کو ایک اعلیٰ سطح کی اسٹرٹیجک بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان کو انسدادِ دہشتگردی کا ایک انتہائی اہم مضبوط اور کلیدی شراکت دار قرار دیا ہے، جس نے خطے میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو آگے بڑھنے سے روکا ہے۔
سربراہ سینٹکام کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ
ایڈمرل بریڈ کوپر نے امریکی سینیٹ کمیٹی کے سامنے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے پاکستانی افواج کی کارکردگی اور قربانیوں کا کھل کر اعتراف کیا۔
انہوں نے اپنی بریفنگ کے دوران درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان انسدادِ دہشت گردی کا ایک انتہائی قابلِ اعتماد شراکت دار ہے، جو خطے میں ’داعش خراسان‘ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف جنگ میں کلیدی اسٹرٹیجک حیثیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان قائم مضبوط فوجی شراکت داری کے نتیجے میں دہشتگردوں کے خلاف انتہائی ٹھوس، مثبت اور نمایاں نتائج حاصل ہوئے ہیں۔
یہ حاصل ہونے والی ٹھوس اور باہمی کامیابیاں دراصل پاکستان اور امریکا کی دیرینہ عسکری دوستی اور خطے کو محفوظ بنانے کے مشترکہ عزم کا براہِ راست عکس ہیں۔
افغانستان امریکی نگرانی کی فہرست میں پہلے نمبر پر
سربراہ سینٹکام نے سینیٹ کو بتایا کہ مسلسل بڑھتے ہوئے علاقائی سیکیورٹی خطرات اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے باعث افغانستان اس وقت واشنگٹن کی سیکیورٹی توجہ کا بنیادی محور بن چکا ہے۔
افغان سرزمین پر مختلف دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل موجودگی اور محفوظ پناہ گاہوں کے باعث افغانستان امریکی نگرانی کی واچ لسٹ میں بدستور پہلے نمبر پر برقرار ہے۔
ایڈمرل کوپر نے مزید انکشاف کیا کہ نہ صرف امریکا بلکہ ہمارے وسطی ایشیائی شراکت دار ممالک بھی افغان طالبان کے زیرِ اثر افغانستان سے پنپنے والے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات پر انتہائی محتاط نظریں رکھے ہوئے ہیں اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے فکرمند ہیں۔
پاکستان کے مؤقف کی بین الاقوامی توثیق
واضح رہے کہ امریکی کمانڈر کا یہ حالیہ بیان خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں، آپریشنل مہارت اور جغرافیائی اہمیت کی ایک اور بڑی بین الاقوامی توثیق کا ثبوت ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے اس جائزے نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کی ساکھ کو مزید مضبوط اور معتبر بنا دیا ہے، جبکہ دوسری جانب قابض افغان طالبان کے زیرِ اثر پنپنے والے دہشت گردی کے خطرناک نیٹ ورکس کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
سینٹکام کا یہ باضابطہ جائزہ پاکستان کے اس دیرینہ اور اصولی مؤقف کی سو فیصد توثیق کرتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور افغان طالبان کی ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ، علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک مستقل اور سنگین خطرہ ہے۔
امریکا کی جانب سے پاکستان کو ایک بار پھر ہراول دستے کا کردار دینے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ خطے میں پاکستان کو بائی پاس کر کے امن کا کوئی بھی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔