افغانستان میں طالبان حکومت کی پالیسیوں اور سرحدی پابندیوں کے باعث افغان تاجروں اور کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ،مختلف سرحدی راستوں کی بندش اور تجارتی نقل و حرکت میں رکاوٹوں نے ملک کی معیشت کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں زرعی اجناس کی بڑی مقدار منڈیوں اور گوداموں میں جمع ہو کر خراب ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پکتیکا سمیت مختلف علاقوں کی منڈیوں میں آلو، سبزیوں اور دیگر زرعی پیداوار کے بڑے بڑے ڈھیر لگ گئے ہیں،تاجروں کے مطابق وہ اپنی اجناس فروخت کرنے اور انہیں بیرونی منڈیوں تک پہنچانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے،سرحدی راستے بند ہونے کے باعث ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک تک برآمدات رک گئی ہیں، جس سے تجارتی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو گئی ہیں۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی محنت کی پیداوار کے ساتھ منڈیوں میں بے بسی کی حالت میں بیٹھے ہیں۔ بعض مقامات پر کسان اور تاجر اپنی اجناس کے پاس گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ خراب ہونے کے خدشے کے باعث انہیں شدید ذہنی اور مالی دباؤ کا سامنا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر متبادل تجارتی راستے اور ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو ہزاروں ٹن اجناس ضائع ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیوں اور سرحدی بندشوں کے باعث افغانستان کی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، اور اب زرعی شعبہ بھی شدید متاثر ہو رہا ہے، تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں صرف تاجروں کو ہی نہیں بلکہ عام کسانوں اور مزدور طبقے کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر تجارتی راستے بحال نہ کیے گئے اور برآمدات کے لیے آسانیاں پیدا نہ کی گئیں تو افغانستان میں بے روزگاری میں اضافہ اور معاشی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔