پاکستان کے معاشی دارالحکومت کراچی میں ہائی پروفائل آن لائن کوکین سپلائی نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری اور اس کے بعد سامنے آنے والے حقائق نے ملکی سیاست اور سیکیورٹی اداروں میں ہلچل مچا دی ہے۔
اس کیس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے اس معاملے پر براہِ راست ردِعمل دیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک انتہائی دھماکہ خیز پوسٹ شیئر کی ہے۔ خواجہ آصف نے اپنے باضابطہ بیان میں لکھا کہ ’پنکی ایپسٹین فائلز کا پاکستانی ورژن ہے‘۔
وزیرِ دفاع کا یہ اشارہ اس جانب ہے کہ جس طرح امریکا میں جیفری ایپسٹین کی خفیہ فائلوں کے منظرِ عام پر آنے سے دنیا بھر کی طاقتور اور بااثر شخصیات کے بھیانک جرائم بے نقاب ہوئے تھے، اسی طرح انمول پنکی کے گاہکوں میں بھی پاکستان کی کئی نامور، امیر اور بااثر شخصیات شامل ہیں، جن کے نام سامنے آنے سے ایک بڑا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے۔
تھانے کا ریکارڈ غائب اور بجلی بند ہونے کا بہانہ
کراچی کے گارڈن تھانے میں ملزمہ پنکی کی گرفتاری کے بعد کچھ ایسی پراسرار تبدیلیاں سامنے آئی ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کی کچھ انتہائی طاقتور اور نامعلوم قوتیں ملزمہ اور اس کے گاہکوں کو بچانے کے لیے متحرک ہو چکی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیشی ذرائع میں بتایا گیا ہے کہ ملزمہ کو تھانے کب لایا گیا اور کب وہاں سے روانہ کیا گیا، اس کا روزنامچے میں کوئی باقاعدہ اور شفاف ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
گارڈن تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج پراسرار طور پر غائب کر دی گئی ہے۔ جب اعلیٰ حکام نے ریکارڈنگ طلب کی تو پولیس عملے نے یہ مضحکہ خیز عذر پیش کیا کہ ’اُس وقت تھانے کی بجلی بند تھی‘۔
تفتیش کاروں کو قوی شبہ ہے کہ ملزمہ سے ملنے آنے والے بااثر افراد کی شناخت چھپانے اور اہم ترین ڈیجیٹل شواہد کو مٹانے کے لیے یہ سب جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔
پنکی کا آن لائن کوکین نیٹ ورک اب بھی سرگرم
حیرت انگیز طور پر اہم کارروائیوں اور ملزمہ کی گرفتاری کے باوجود انمول پنکی کا مبینہ آن لائن کوکین نیٹ ورک اب بھی کراچی میں پوری طرح متحرک ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکمہ دینے کے لیے اس کے کارندوں نے اپنے پرانے رابطہ نمبرز تبدیل کر لیے ہیں اور خریداروں کو خفیہ پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔
ان پیغامات میں خریداروں کو مطلع کیا گیا ہے کہ پنکی کا پرانا نمبر بند ہو چکا ہے اور اب یہ ’سروس‘ اس کے قریبی دوست فراہم کر رہے ہیں۔
نیٹ ورک کی جانب سے گاہکوں کو بھیجے گئے نرخ نامے کے مطابق کراچی میں 24 گھنٹے کوکین کی ہوم ڈیلیوری دستیاب ہے۔ گولڈن اسٹف (اعلیٰ معیار کی کوکین): 25,000 روپے فی گرام، سلور اسٹف 15,000 روپے فی گرام فروخت ہو رہی ہے۔
گاہکوں کو سخت تاکید کی گئی ہے کہ اب رقم ’فیاض کمیونی کیشنز‘ کے اکاؤنٹ میں ہرگز نہ بھیجی جائے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس بینک اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا ہے۔ اب یہ نیٹ ورک نئے مالیاتی ذرائع اور ڈیجیٹل والٹس کا استعمال کر رہا ہے۔
ملزمہ کی دستاویزات اور سفری تفصیلات
تفتیش کے دوران منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی تمام اہم تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔
پاسپورٹ کی تفصیلات
دستاویزات کے مطابق ملزمہ نے 17 اپریل 2018 کو کراچی سے اپنا پاسپورٹ حاصل کیا تھا، جو 5 سال کی مدت پوری ہونے کے بعد 17 اپریل 2023 کو ایکسپائر (منسوخ) ہو چکا تھا۔
شناختی کارڈ کی تفصیلات
ملزمہ نے اپنا شناختی کارڈ 6 دسمبر 2016 کو کراچی سے بنوایا تھا، جس پر ابوالحسن اصفہانی روڈ، گلشنِ اقبال کراچی کا پتہ درج ہے۔
شناخت تبدیل کرنے کی کوشش
انکشاف ہوا ہے کہ قانون کی گرفت سے بچنے اور اپنا مجرمانہ ریکارڈ چھپانے کے لیے پنکی نے اپنا نام تبدیل کر کے ایک اور جعلی شناختی کارڈ بنوانے کی بھی کوشش کی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کی مدد سے ملزمہ کی بین الاقوامی سفری تفصیلات (ٹرویل ہسٹری) حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ یا خریداروں کی سہولت کاری کے لیے کن کن ممالک کا سفر کرتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ پنکی کے اہلخانہ کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈز کا ریکارڈ بھی قبضے میں لے کر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کی اشرافیہ اور منشیات کا گٹھ جوڑ
واضح رہے کہ انمول پنکی کیس نے پاکستان کی اعلیٰ اشرافیہ (ایلیٹ کلاس) کے تاریک پہلو کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
پیٹرولیم یا دیگر عام کاروباروں کے برعکس، کوکین جیسے مہنگے ترین نشے کی 25,000 روپے فی گرام فروخت یہ ثابت کرتی ہے کہ اس کے گاہک عام شہری نہیں بلکہ معاشرے کے انتہائی امیر، سیاستدان، بیوروکریٹس اور شوبز سے وابستہ افراد ہیں۔
خواجہ آصف کی جانب سے اسے امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین فائلز سے تشبیہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نیٹ ورک کے پیچھے صرف منشیات کی فروخت ہی نہیں، بلکہ بلیک میلنگ، ریکیٹ اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
تھانے کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کا غائب ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ کراچی میں نظام پر اثر انداز ہونے والے بااثر خریدار اپنے نام بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس بار دباؤ قبول کر لیا، تو یہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا اینٹی کلائمکس بن جائے گا۔