فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مذاکرات میں نہایت اہم کردار ادا کیا جو تاریخ میں یاد رکھا جائےگا،شہباز شریف

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مذاکرات میں نہایت اہم کردار ادا کیا جو تاریخ میں یاد رکھا جائےگا،شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے دوسرے مرحلے اور خطے میں مستقل امن کے امکانات کے حوالے سے پُرامید ہیں۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک اہم اور مثبت دور سے گزر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ایسے ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مختلف ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور ثالثی کی صلاحیت رکھتا ہے ، یہ پورے ملک کے لیے فخر کا لمحہ ہے اور ہر پاکستانی کی طرح انہیں بھی اپنے وطن پر فخر ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آمنے سامنے مذاکرات کے اگلے دور اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے امید کی فضا موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ امن کا حصول آسان عمل نہیں بلکہ اس کے لیے تحمل، حکمت اور مشکل حالات میں درست فیصلے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکا ایران مذاکرات ، پاکستان کی نئی حکمت عملی پر غور، وزیراعظم نے اہم اجلاس طلب کر لیا

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اب بھی کوشش کر رہا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک اور دور منعقد ہو سکے تاکہ دیرپا استحکام کی راہ ہموار ہو، تاہم حتمی نتائج اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو یہ اہم سفارتی کردار خوش قسمتی سے حاصل ہوا ہےسیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مؤثر تعاون کی وجہ سے پاکستان کی عالمی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران، امریکہ اور خلیجی ممالک پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں جبکہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی اس اعتماد میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ سعودی عرب اور قطر کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات ہیں جبکہ ایران کے ساتھ طویل سرحد اور آبنائے ہرمز کے قریب پاکستانی بندرگاہیں عالمی توانائی رسد کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں ۔

وزیراعظم نے مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں انتہائی اہم اور مؤثر کردار ادا کیا، جسے تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔.

یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں مذاکرات کا اگلا دور کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فیلڈ مارشل بہت اچھا کام کررہے ہیں، صدر ٹرمپ

اس موقع پر انہوں نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ مسلسل مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام سے رابطے میں رہے۔

پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برس مئی میں اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو جنوبی ایشیا ایک بڑے سانحے کی طرف جا سکتا تھا اس قدر خطرناک ہو سکتی تھی کہ شاید کوئی یہ بتانے کے لیے بھی موجود نہ رہتا کہ کیا ہوا تھا۔

دہشت گردی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بی ایل اے اور دیگر شدت پسند گروہ شامل ہیں۔

انہوں نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس اپنے عوام کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے مثبت نتائج آنے کی امید ہے،شاہزیب خانزادہ

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے کابل کو کئی مرتبہ امن اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے پیغامات دیے ہیں پاکستان ہمیشہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ پرامن ہمسایوں کی طرح رہیں کیونکہ دونوں کے درمیان دو ہزار کلومیٹر سے زائد طویل سرحد موجود ہے۔۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے صرف یہ مطالبہ کیا تھا کہ افغان سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے استعمال میں نہ آنے دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بے گناہ شہری اور سیکیورٹی اہلکار مسلسل نشانہ بنتے رہیں تو خاموش رہنا ممکن نہیں۔

editor

Related Articles