وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ملک میں بجلی کے جدید میٹرز کی تنصیب سے متعلق اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مرحلہ وار ایک کروڑ جدید بجلی میٹرز نصب کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق یہ بات انہوں نے ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، ملاقات میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، ٹرانسمیشن نظام کی بہتری اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان میں نارتھ ساؤتھ ٹرانسمیشن انفرااسٹرکچر سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے،حکومت پاور سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور جدید اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں تقریباً پندرہ لاکھ جدید میٹرز پہلے ہی نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی میٹرز کی مرحلہ وار تنصیب جاری رہے گی،انہوں نے کہا کہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور ٹرانسمیشن لائنز کی بہتری بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں تاکہ بجلی کی ترسیل کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ملاقات کے دوران ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے نمائندوں نے پاکستان کے توانائی شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا،بینک حکام کے مطابق پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی، پائیدار انفرااسٹرکچر اور بجلی کی ترسیل کے منصوبوں کے لیے مالی معاونت کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بینک کے نمائندے کونستانتین لیمیٹووسکی نے کہا کہ ادارے کے پاس تقریباً 100 سے 150 ملین ڈالر تک کی ممکنہ سرمایہ کاری کی پائپ لائن موجود ہے، جس کے ذریعے توانائی کے مختلف منصوبوں کی معاونت کی جا سکتی ہے۔
ملاقات میں پاکستان اور ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی غور کیا گیا، جبکہ حکام نے امید ظاہر کی کہ جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی سرمایہ کاری سے ملک کے توانائی نظام میں بہتری آئے گی۔