وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بار پھر ایران کا ہنگامی دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔
ذرائع کے مطابق ایک ہفتے کے دوران یہ ان کی ایرانی صدر سے دوسری ملاقات ہے جسے خطے میں بدلتی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور افہام و تفہیم کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات میں دیکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے درمیان رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
دورے کے دوران محسن نقوی نے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ جنرل احمد وحیدی سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، سلامتی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ محسن نقوی چند روز قبل بھی ایران کے دورے پر گئے تھے جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ پاکستان واپسی کے صرف چوبیس گھنٹے بعد ان کا دوبارہ تہران پہنچنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اہم سفارتی رابطے تیزی سے جاری ہیں۔