اسپیس ایکس کا ڈیٹا سینٹرز کے لیے اربوں ڈالر کی توانائی سرمایہ کاری کا انکشاف

اسپیس ایکس کا ڈیٹا سینٹرز کے لیے اربوں ڈالر کی توانائی سرمایہ کاری کا انکشاف

ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے حالیہ مہینوں میں 2.8 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری گیس ٹربائنز خریدنے کے لیے کی ہے، جو اس کے مصنوعی ذہانت (AI) ڈویژن کے ڈیٹا سینٹرز کو بجلی فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوں گی۔ یہ بات کمپنی کی ایک ریگولیٹری فائلنگ میں سامنے آئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بڑی سرمایہ کاری ظاہر کرتی ہے کہ مسک اب بھی گیس ٹربائنز کے استعمال پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کے استعمال پر ماحولیاتی خدشات، شکایات، قانونی کارروائی اور ریگولیٹری تحقیقات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ الزامات میں کہا گیا ہے کہ کمپنی ممکنہ طور پر کاربن اخراج اور ماحولیاتی قوانین سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کائنات میں ڈائمنڈ پلینٹس کی موجودگی کا انکشاف، ناسا کی تحقیق سامنے آگئی

امریکا میں اس وقت توانائی کی کمی ڈیٹا سینٹر انڈسٹری کی تیز رفتار ترقی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اس صورتحال میں پورٹیبل گیس ٹربائنز کو فوری اور عارضی حل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو بغیر بجلی کے گرڈ سے منسلک ہوئے کام کر سکتی ہیں، جب تک مستقل توانائی ذرائع دستیاب نہیں ہو جاتے۔

اسپیس ایکس نہ صرف راکٹ لانچ اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں سرگرم ہے بلکہ یہ ایلون مسک کی اے آئی(AI) کمپنی ایکس اے آئی(xAI) سے بھی منسلک ہے، جو چیٹ بوٹ ’’گروک‘‘ تیار کرتی ہے۔ کمپنی ان ڈیٹا سینٹرز کے کچھ سرورز بھی استعمال کر رہی ہے جنہیں کولوسس 1 (ٹینیسی) اور کولوسس 2 (مسیسیپی) کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سورج گرہن کے دوران کششِ ثقل ختم ہونے کی افواہیں، ناسا نے حقیقت بتا دی

مزید تفصیلات کے مطابق اسپیس ایکس کی آئی پی او فائلنگ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے مارچ میں 805 ملین ڈالر کے گیس ٹربائنز کے آرڈرز کیے تھے، جبکہ اپریل کے آخر میں 2 ارب ڈالر کا ایک اور معاہدہ کیا گیا جو اب بھی زیر التوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :چاند کے چھپے رنگ سامنے آگئے، حیران کن سائنسی انکشاف

میڈیاذرائع کے مطابق کولوسس 2 میں حالیہ مہینوں کے دوران 19 نئے پورٹیبل ٹربائنز شامل کیے گئے ہیں، جس کے بعد مجموعی تعداد 46 ہو گئی ہے۔ قوانین کے تحت یہ ٹربائنز ایک سال تک بغیر صاف ہوا کے اجازت نامے کے چلائی جا سکتی ہیں، اور کمپنی نے اسی نرمی کا فائدہ اٹھایا ہے۔

فائلنگ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسپیس ایکس کے پاس اس وقت 14 ارب ڈالر سے زائد کے تعمیراتی منصوبے زیر تکمیل ہیں، جن میں ڈیٹا سینٹرز کا وہ سامان بھی شامل ہے جو ابھی مکمل طور پر فعال نہیں۔

editor

Related Articles