وزیرِاعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) کی رکنیت میں توسیع کی منظوری دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے تعلیم خالد مقبول صدیقی کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کا رکن مقرر کر دیا ہے اس پیشرفت کو حکومتی اتحاد میں اعتماد اور رابطہ کاری کے فروغ کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی پاکستان کی اہم ترین کابینہ سطح کی کمیٹیوں میں شمار ہوتی ہے جو ملک کے معاشی، مالیاتی اور پالیسی سے متعلق فوری نوعیت کے فیصلے کرتی ہے۔ اس میں مختلف اتحادی جماعتوں کی نمائندگی حکومتی فیصلوں کو زیادہ جامع اور متوازن بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کی نمایندگی میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اہم قومی پالیسی سازی میں اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھ رہی ہے جس سے فیصلہ سازی کے عمل میں ہم آہنگی اور توازن پیدا ہوگا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی میں خالد مقبول صدیقی کی شمولیت کو ایم کیو ایم پاکستان کے لیے ایک اہم انتظامی اور پالیسی سطح کی ذمہ داری قرار دیا جا رہا ہے جس کے ذریعے جماعت کو ملک کی معاشی سمت طے کرنے والے اہم فورم پر براہِ راست کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
یہ شمولیت نہ صرف مشاورت کے عمل کو مضبوط کرے گی بلکہ شہری سندھ اور متوسط طبقے سے متعلق معاشی مسائل کو بھی پالیسی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
اتحادی جماعتوں کو اہم اقتصادی فورمز میں شامل کرنا حکومتی اتحاد کو مستحکم بنانے اور پالیسی سازی کو زیادہ جامع بنانے کی طرف ایک مثبت قدم ہے جس سے ملک کے معاشی فیصلوں میں وسیع تر نمائندگی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔