سینئر صحافی عقیل یوسف زئی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے صحافیوں کو دھمکی کو غنڈہ گردی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔
عقیل یوسف زئی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں بڑے معتبر صحافی موجود ہیں، جبکہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بننے سے پہلے کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا نہ سہیل آفریدی کی جاگیر ہے، نہ ملکیت اور نہ ہی اس میں ان کا کوئی اسٹیک ہے۔
سینئر صحافی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے صحافیوں نے پاکستان کی سلامتی اور صوبے کے تحفظ کی جنگ لڑی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی کانفلیکٹ زون میں سب سے زیادہ شہادتیں خیبر پختونخوا کے صحافیوں نے دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بین الاقوامی سطح کے درجنوں صحافی موجود ہیں، جو انٹرنیشنل میڈیا پر نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
عقیل یوسف زئی نے کہا کہ اگر کسی محکمے، صوبائی حکومت یا کسی ادارے میں کرپشن ہو رہی ہے تو کیا صحافی اسے حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ ان کے مطابق یہ کھلی بدمعاشی ہے۔ انہوں نے سہیل آفریدی کے طرزِ عمل کو شوشہ گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے عملی طور پر اہمیت نہیں دیتے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں جو بیوروکریسی بنائی ہے، وہ کرپٹ ترین بیوروکریسی ہے۔ عقیل یوسف زئی کے مطابق یہ پاکستان اور خیبر پختونخوا کی تاریخ کی کرپٹ بیوروکریسی ہے، کیونکہ ان کے پی ٹی آئی ایک کرپٹ پارٹی ہے۔
عقیل یوسف زئی نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اپنے رہنما ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں، جو نیشنل میڈیا پر آن ریکارڈ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ محمود خان کے دور میں سوشل میڈیا کے لیے ایسے نوجوان بھرتی کیے گئے تھے جو صحافیوں، سیاستدانوں، علما اور ریاست کے خلاف گالم گلوچ کرتے تھے۔
عقیل یوسف زئی کا کہنا تھا کہ پہلی بار پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل میڈیا کے ایسے پلیٹ فارمز سامنے آئے ہیں جو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ثبوتوں، دلائل اور مؤقف کی بنیاد پر کرپشن کو بے نقاب کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے یہ پلیٹ فارمز پروفیشنل ہیں اور ان پر کئی نمایاں صحافی کام کر رہے ہیں۔