سینئر صحافی عارف یوسفزئی نے کہا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں بیڈ گورننس، کرپشن اور وزراء کی بدعنوانیوں پر آواز اٹھانا جرم سمجھا جاتا ہے تو صحافی یہ جرم کرتے رہیں گے، کیونکہ صحافت کا بنیادی مقصد عوام کے سامنے سچ لانا ہے۔
آزاد ڈیجیٹل کو دیے گئے انٹرویو میں عارف یوسفزئی نے کہا کہ موجودہ حالات میں صحافیوں پر دباؤ ڈالنے اور انہیں خاموش کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم صحافی کسی دباؤ یا دھمکی سے خوفزدہ ہونے والے نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت جو بھی اقدامات کرنا چاہے کر لے، سچ بولنے والے صحافی اپنا کام جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن، بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق خبریں بغیر تحقیق یا ثبوت کے نشر نہیں کی جاتیں بلکہ صحافیوں کے پاس مکمل شواہد اور دستاویزی ثبوت موجود ہوتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومتوں کو تنقید برداشت نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میڈیا حقائق سامنے لانا چھوڑ دے۔
عارف یوسفزئی نے مزید کہا کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور صحافیوں کو ہراساں کرنا یا ان پر دباؤ ڈالنا آزادیٔ اظہار رائے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کا کام صرف حکومتوں کی تعریف کرنا نہیں بلکہ عوامی مسائل، کرپشن اور ناقص حکمرانی کی نشاندہی کرنا بھی ہے تاکہ ذمہ دار ادارے حرکت میں آئیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں کرپشن اور بدعنوانی سے متعلق خبریں سامنے لانے کا سلسلہ جاری رہے گا اور عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جاتا رہے گا۔