وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دور ہ ایران کے حوالے سے دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام سامنے آنے کی توقع ہے۔
نجی ٹیلی وژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کی تقریب متوقع ہے، جس کے لیے مختلف امور پر مشتمل ایک فریم ورک بھی تیار کیا گیا ہے،بعض معاملات پر بعد میں مرحلہ وار پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا بنیادی مؤقف پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان پالیسی سطح پر فیصلہ ہونے کے بعد مختلف معاملات پر بتدریج بات چیت جاری رہے گی۔
مشیرِ وزیرِ اعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مذاکراتی عمل کو مزید تیزی ملے گی اور خطے میں استحکام کے امکانات روشن ہوں گے۔
آئینی ترمیم کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ کسی اٹھائیسویں آئینی ترمیم پر کام نہیں ہو رہا، ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام، صحت اور آبادی جیسے اہم قومی مسائل پر پہلے اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے، اور جب تک سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی نہیں ہوگی کوئی نئی ترمیم نہیں لائی جائے گی۔
انہوں نے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اب سیاسی انداز سے آگے بڑھنے کے بجائے محاذ آرائی کی سیاست کر رہی ہے،پارٹی قیادت ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ بیرونِ ملک موجود بعض عناصر بھی ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ عمران خان نے اپنے سیاسی طرزِ عمل کی وجہ سے خود کو موجودہ صورتحال تک پہنچایا، کیونکہ وہ سیاسی مفاہمت کے بجائے تصادم کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔