بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے دوران وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی معاملات پر جاری مشاورت میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چاروں صوبے وفاقی حکومت کا مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لیے مالی تعاون پر آمادہ ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے نہ صرف اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے بلکہ مالی معاونت کے طریقہ کار کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس سے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی بجٹ ٹیکنیکل کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں اہم مالی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر سلیم مانڈوی والا، نوید قمر اور شیری رحمان شریک ہوئے جبکہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کو درپیش مالی چیلنجز اور بجٹ اہداف کے حصول کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں سے مجموعی طور پر 1700 ارب روپے تک مالی معاونت کی درخواست کی تھی تاکہ آئندہ مالی سال کے مالیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ پنجاب پہلے ہی 500 ارب روپے سے زائد کی معاونت پر آمادگی ظاہر کر چکا تھا، جبکہ اب دیگر صوبوں نے بھی وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون پر اتفاق کر لیا ہے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ گزشتہ شب ایوان صدر میں ہونے والے اہم اجلاس کے دوران معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے۔ ان کے مطابق چاروں صوبوں نے وفاق کو 1200 سے 1700 ارب روپے تک مالی معاونت فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کو درپیش اسٹریٹیجک اور معاشی چیلنجز کے تناظر میں کیا گیا ہے تاکہ قومی مالیاتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان کسی قسم کا تنازع موجود نہیں تھا، اصل بحث مالی معاونت کے طریقہ کار پر تھی جسے اب حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات، صدر مملکت اور وزیر اعظم کی مصروفیات کے باعث بعض اہم ملاقاتیں بروقت نہ ہو سکیں، جس کی وجہ سے بجٹ سے متعلق فیصلوں میں تاخیر ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ترقیاتی بجٹ سمیت بیشتر اہم مالی معاملات پر اتفاق رائے قائم ہو چکا ہے۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں ان فیصلوں کی توثیق متوقع ہے جبکہ اقتصادی سروے پیش کیے جانے کے بعد وفاقی بجٹ 2026-27 پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی تعاون پر اتفاق حکومت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے بجٹ اہداف کے حصول اور معاشی استحکام کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔