زمین کے بالکل مرکز میں ایک ایسی دولت چھپی ہوئی ہے جس نے انسانی تاریخ کی تمام سونے کی کانوں کو ایک لمحے میں بے معنی کر دیا۔
سائنس دانوں کے اندازوں کے مطابق زمین کے کور میں اتنا سونا موجود ہے کہ اگر اسے نکالا جا سکے تو پوری زمین کی سطح پر تقریباً آدھا میٹر موٹی سنہری تہہ بچھائی جا سکتی ہے۔ مقدار کا اندازہ اس حد تک ہے کہ یہ انسانوں کی اب تک نکالے گئے کل سونے سے اربوں گنا زیادہ بنتی ہے۔
ابتدائی زمین جب مکمل طور پر پگھلی ہوئی حالت میں تھی تو بھاری عناصر نیچے کی طرف ڈوبتے چلے گئے۔ سونا چونکہ آئرن کے ساتھ جڑنے کی خاصیت رکھتا ہے، اس لیے وہ بھی زمین کے مرکز کی طرف چلا گیا اور کور کا حصہ بن گیا۔ بعد میں جو سونا زمین کی سطح پر ملا، وہ زیادہ تر شہابی پتھروں کے ٹکراؤ سے آیا۔
زمین کا مرکز تقریباً 2900 کلومیٹر نیچے ہے۔ انسان آج تک سب سے گہرا سوراخ صرف 12 کلومیٹر تک ہی کر سکا ہے، اور وہاں بھی درجہ حرارت اور دباؤ نے انجینئرنگ کو روک دیا۔
کور کے قریب درجہ حرارت ہزاروں ڈگری تک پہنچتا ہے، اور دباؤ سطح زمین کے مقابلے میں لاکھوں گنا زیادہ ہوتا ہے۔ یہ حالات کسی بھی مشین یا ٹیکنالوجی کو فوراً ناکام کر دیتے ہیں۔
سیدھی بات یہ ہے کہ زمین کی سب سے بڑی دولت ہمارے قدموں کے نیچے ہونے کے باوجود ہمیشہ کے لیے ہماری پہنچ سے باہر ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حقیقت نے آج تک سونے کی قیمت کو ایک روپے بھی نہیں بدلا۔