مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے اور امریکا ایران ممکنہ امن معاہدے کے پسِ پردہ حقائق اب دنیا کے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
امریکی میڈیا اور نامور ٹی وی چینلز سی بی سی نے انکشاف کیا ہے کہ اس تاریخی امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے اور فریم ورک کو حتمی شکل دینے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک غیر معمولی اور کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
تہران کا دورہ اور فائنل امن مسودہ
امریکی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران نے دونوں حریف ممالک کے درمیان جاری تعطل کو توڑنے اور مذاکرات کو نتیجے تک پہنچانے میں سب سے اہم ترین کردار ادا کیا۔ اس دورے کے دوران انتہائی پیچیدہ اسٹرٹیجک امور پر بات چیت کی گئی، جس کا نتیجہ ایک جامع امن مسودے کی شکل میں سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان قیام امن کیلئے کردار ادا کررہا ،دنیا کی نظریں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر ہیں،رانا ثناء اللہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تہران سے واپسی پر ان کی زیرِ نگرانی تیار کردہ یہ مجوزہ امن مسودہ ایرانی اور امریکی اعلیٰ قیادت کو حتمی جائزے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ انتہائی مخدوش صورتحال میں صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک تھا جو فریقین کو ایک ایسے مسودے پر راضی کرنے میں کامیاب ہوا جسے اب حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
واشنگٹن اور تہران کا غیر متزلزل اعتماد
بین الاقوامی میڈیا کے لیے سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو امریکا اور ایران، دونوں متضاد طاقتوں کا یکساں اور مکمل اعتماد حاصل ہے۔
امریکی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں یاد دلایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بذاتِ خود فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صلاحیتوں کے معترف ہیں اور انہیں ’مائی فیورٹ فیلڈ مارشل‘ (میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل) کا اعلیٰ خطاب بھی دے چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ اعتماد اور ایرانی قیادت کے ساتھ فیلڈ مارشل کے مضبوط روابط ہی اس ناممکن کو ممکن بنانے کی بنیادی وجہ بنے۔
پاکستان میں سول ملٹری ہم آہنگی
امریکی میڈیا نے اپنی خصوصی رپورٹ میں اس بات پر خاص طور پر روشنی ڈالی ہے کہ اس عالمی کامیابی کا اصل راز پاکستان کے اندر موجود مضبوط فیصلہ سازی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان پائی جانے والی مثالی ہم آہنگی اور یکسوئی ہی اس بڑی بین الاقوامی ثالثی کا بنیادی عنصر ہیں۔ جب عسکری کمانڈ کو حکومت کی مکمل سیاسی اور سفارتی پشت پناہی حاصل ہو، تو بین الاقوامی سطح پر ایسے ہی دور رس نتائج حاصل ہوتے ہیں‘۔

