دیو ہیکل گھونسلے بنانے والا عقاب، فطرت کا حیران کن انجینئر

دیو ہیکل گھونسلے بنانے والا عقاب، فطرت کا حیران کن انجینئر

قدرت کی دنیا میں کئی ایسے مناظر موجود ہیں جو انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں، اور انہی میں سے ایک منظر بالڈ ایگل یعنی گنجے عقاب کے گھونسلے ہیں، جو اپنی جسامت اور وزن کے لحاظ سے غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں۔

یہ عقاب ایسے گھونسلے بناتے ہیں جو وقت کے ساتھ ایک چھوٹی سی عمارت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔بالڈ ایگل کے گھونسلے بعض اوقات 8 فٹ تک چوڑے (تقریباً 2.4 میٹر) اور 13 فٹ تک گہرے (تقریباً 4 میٹر)ہو سکتے ہیں، جو کسی بڑے کمرے کے سائز کے برابر ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :11 سالہ بچی کے منہ میں 81 دانت، ڈاکٹروں بھی حیران رہ گئے

یہ گھونسلے برسوں کے استعمال اور مسلسل مرمت کے باعث بہت زیادہ بھاری ہو جاتے ہیں۔کچھ گھونسلوں کا وزن ایک ٹن (تقریباً 900 کلوگرام) سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کیسے بنتے ہیں یہ دیو ہیکل گھونسلے؟

بالڈ ایگل ہر سال اپنے پرانے گھونسلے کو دوبارہ استعمال کرتا ہے۔وہ اس میں نئی ٹہنیاں ,گھاس پھوس اور مختلف قدرتی موادشامل کرتا رہتا ہے، جس سے گھونسلہ آہستہ آہستہ بڑا اور مضبوط ہوتا جاتا ہے۔

یوں یہ گھونسلہ ایک ایسی ڈھانچہ بن جاتا ہے جو نسلوں تک استعمال ہوتا رہتا ہے، بالکل ایک ایسی عمارت کی طرح جو وقت کے ساتھ مزید پھیلتی چلی جائے۔

یہ بھی پڑھیں :برمودا جزیرے کے نیچے چھپا حیران کن راز

فطرت کا حیران کن کارنامہ

ماہرین کے مطابق یہ صلاحیت قدرتی انجینئرنگ کی ایک شاندار مثال ہے، جہاں ایک پرندہ درختوں کی بلند اور نازک شاخوں پر اتنا بھاری وزن نہ صرف قائم رکھتا ہے بلکہ اسے محفوظ بھی بناتا ہے۔ یہ حقیقت فطرت کی اس خوبصورتی اور ذہانت کو ظاہر کرتی ہے جو ہر بار انسان کو حیران کر دیتی ہے۔

editor

Related Articles