امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کئی برسوں سے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ طویل عرصے سے تہران کے ہدف میں سرفہرست ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی یا قتل کی کوشش کی گئی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کافی عرصے سے ایرانی قیادت کے ممکنہ نشانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خدشے کے پیش نظر انہوں نے متعلقہ امریکی اداروں کو پہلے ہی واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ اگر ان پر قاتلانہ حملہ کیا جاتا ہے تو ایران کے خلاف انتہائی سخت فوجی ردعمل دیا جائے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے پیشگی ہدایات جاری کر رکھی ہیں جن کے تحت ایران کی جانب سے ان پر حملے یا قتل کی کوشش کی صورت میں غیر معمولی بمباری سمیت سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ، “اگر ایران مجھے قتل کرتا ہے تو اسے اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔”
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اس وقت اسرائیل کے پاس ان کے خلاف کسی نئے ایرانی منصوبے یا سازش سے متعلق کوئی معلومات موجود نہیں ہیں تاہم ان کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ختم ہو چکا ہے، کیونکہ وہ برسوں سے ایران کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام خطے میں عسکری سرگرمیوں، پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر اختلافات برقرار ہیں جبکہ حالیہ مہینوں میں دونوں جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا تازہ بیان نہ صرف ایران کے خلاف ان کے سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے تاحال صدر ٹرمپ کے اس دعوے یا بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔