سعودی عرب میں مناسکِ حج 1447 ہجری کا سلسلہ انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان آج حج کا رکنِ اعظم ’وقوفِ عرفہ‘ ادا کرنے کے لیے بڑے قافلوں کی صورت میں میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔ ارضِ مقدس میں اس وقت ایمان افروز مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں اور پوری فضا ’لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک‘ کی روح پرور صداؤں سے گونج رہی ہے۔
منیٰ میں رات بھر قیام اور عبادات کا منظر
گزشتہ روز حج کے پہلے مرحلے میں تمام حجاج کرام مکہ مکرمہ سے منیٰ کی خیمہ بستی پہنچے تھے۔ منیٰ میں قیام کے دوران عازمین نے نمازِ ظہر، عصر، مغرب اور عشا ادا کیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاکھوں عازمین حج کا منیٰ میں قیام ، فضا لبیک اللّٰہم لبیک کی صداؤں سے گونج اٹھی
حجاج کرام نے منیٰ میں رات بھر قیام کیا اور اپنا زیادہ تر وقت استغفار، ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن پاک اور خصوصی دعاؤں میں گزارا۔ منیٰ کی خیمہ بستی کا منظر دیدنی تھا جہاں رنگ، نسل اور زبان کا فرق مٹ چکا تھا اور ہر سو سفید احرام میں ملبوس اللہ کے مہمانوں کا سمندر نظر آ رہا تھا۔
رکنِ اعظم ’وقوفِ عرفہ‘ اور آج کے مناسک
آج 9 ذوالحجہ کو حج کا سب سے بڑا اور اہم ترین رکن ’وقوفِ عرفہ‘ ادا کیا جا رہا ہے۔ تمام عازمینِ حج دوپہر سے قبل میدانِ عرفات میں جمع ہو جائیں گے، جہاں مسجدِ نمرہ سے دیا جانے والا خطبہِ حج سنیں گے۔ خطبے کے بعد حجاج کرام ظہر اور عصر کی نمازیں قصر ملا کر ایک ساتھ ادا کریں گے۔
🔴 میدان عرفات pic.twitter.com/A4eBFXXEkS
— RTEUrdu (@RTEUrdu) May 25, 2026
میدانِ عرفات میں غروبِ آفتاب تک اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار، گریہ و زاری اور عالمِ اسلام کی سربلندی کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ’الحج عرفہ‘ یعنی عرفات میں وقوف کرنا ہی اصل حج ہے اور جو شخص اس وقت یہاں موجود نہ ہو اس کا حج مکمل نہیں ہوتا۔
مزدلفہ روانگی اور 10 ذوالحجہ کے مناسک
غروبِ آفتاب کے فوراً بعد عازمینِ حج بغیر نماز پڑھے میدانِ عرفات سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں گے۔ عازمینِ حج رات کھلے آسمان تلے مزدلفہ میں گزاریں گے، جہاں پہنچ کر مغرب اور عشا کی نمازیں ملا کر ایک ساتھ ادا کی جائیں گی۔ مزدلفہ میں رات بھر قیام سنتِ نبوی ﷺ ہے اور یہیں سے جمرات (شیطانوں) کو مارنے کے لیے 49 یا 70 کنکریاں چُنی جائیں گی۔
حج 2026
میدان عرفات pic.twitter.com/IMtE3XcKiI
— Dua (@TahiraDuwaa) May 25, 2026
10 ذوالحجہ (عید الاضحیٰ) کی صبح نمازِ فجر کی ادائیگی اور الوداعی دعا کے بعد عازمینِ حج مزدلفہ سے دوبارہ منیٰ پہنچیں گے جہاں درج ذیل مناسک ترتیب وار ادا کیے جائیں گے۔
رمی (کنکریاں مارنا)، سب سے پہلے بڑے شیطان (جمرہ عقبہ) کو 7 کنکریاں ماری جائیں گی۔
قربانی اور حلق
کنکریاں مارنے کے بعد حجاج کرام اللہ کی راہ میں قربانی کریں گے، جس کے بعد مرد اپنے بال کٹوائیں گے (یا منڈوائیں گے) اور خواتین انگلی کے پور برابر بال کاٹیں گی۔
احرام کھولنا
ان مناسک کے بعد حجاج کرام احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جائیں گے اور عام لباس زیب تن کر سکیں گے۔
طوافِ زیارت
بعد ازاں حجاجِ کرام مکہ مکرمہ جا کر بیت اللہ کا طوافِ زیارت اور صفا و مروہ کی سعی کریں گے اور واپس منیٰ لوٹ آئیں گے۔
منیٰ میں قیام کے دوران 11 اور 12 ذوالحجہ کو بھی حجاجِ کرام بقیہ دونوں دن تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا عمل جاری رکھیں گے اور 12 ذوالحجہ کو غروبِ آفتاب سے قبل منیٰ سے روانہ ہوں گے، جس کے ساتھ ہی حج کے تمام مناسک مکمل ہو جائیں گے۔
حج کی تاریخ اور کورونا کے بعد ریکارڈ اجتماع
حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ تاریخی پس منظر کے لحاظ سے یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانیوں کی یادگار ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے حجاج کی تعداد محدود رکھی گئی تھی، تاہم حالیہ سالوں میں سعودی حکومت نے تمام پابندیاں ختم کر کے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمانوں کو آمد کی اجازت دی ہے۔
امسال دنیا کے 160 سے زیادہ ممالک سے تقریباً 20 لاکھ سے زیادہ عازمینِ حج فریضہِ حج ادا کر رہے ہیں، جو حالیہ تاریخ کا ایک بڑا اجتماع ہے۔
شدید موسم اور سعودی حکومت کے غیر معمولی انتظامات
امسال حج کے دوران حجازِ مقدس میں شدید گرمی اور گردوغبار کے طوفان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سعودی حکومت نے میدانِ عرفات اور اطراف میں خصوصی انتظامات کئے ہیں۔
گرین ہاؤس اثر اور شجرکاری
میدانِ عرفات اور منیٰ میں لاکھوں درخت لگائے گئے ہیں تاکہ ماحول کو ٹھنڈا رکھا جا سکے۔
جدید کولنگ سسٹمز
لاکھوں سایہ دار شیڈز کے ساتھ جدید کولنگ فینز نصب کئے گئے ہیں جو پانی کی باریک پھوار (مسٹنگ سپرے) کے ذریعے درجہ حرارت کو 5 سے 7 ڈگری تک کم کرتے ہیں۔
جدید ترین راہداریاں
عازمین کی پیدل سفر میں سہولت کے لیے میدانِ عرفات میں خصوصی راہداریاں تیار کی گئی ہیں، جنہیں ایسے لچکدار اور حرارت جذب کرنے والے مٹیریل سے بنایا گیا ہے کہ چلنے میں تھکن کم محسوس ہو اور پاؤں جھلسنے سے محفوظ رہیں۔

