خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں جس کے بعد پارٹی قیادت نے صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے اعلیٰ سطحی رابطہ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کی ہدایت پر 6 رکنی رابطہ و مفاہمتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کا مقصد صوبائی حکومت، پارلیمانی پارٹی اور تنظیمی ڈھانچے کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو کم کرنا اور باہمی رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔
کمیٹی کی سربراہی سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو سونپی گئی ہے جبکہ دیگر ارکان میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی، صوبائی جنرل سیکرٹری علی اصغر خان، صوبائی وزراء مینا خان اور اکبر ایوب کے علاوہ پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدر عاطف خان شامل ہیں۔
جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق یہ کمیٹی پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو کم کرنے فیصلوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور وزیراعلیٰ، صوبائی صدر اور دیگر پارٹی فورمز کے درمیان رابطہ کاری کا کردار ادا کرے گی۔ مزید کہا گیا ہے کہ یہ فورم پارٹی کی رہبری اور مشاورتی سطح پر اہم فیصلوں میں معاونت فراہم کرے گا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اختلافات کی ایک بڑی وجہ حالیہ تنظیمی و حکومتی فیصلوں پر عدم اعتماد اور مشاورت کے فقدان کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بعض ارکان اسمبلی اور صوبائی وزراء کے درمیان پالیسی امور پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔
مزید یہ کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں پینتیس سے زائد ارکان کی عدم شرکت نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا جسے پارٹی کے اندرونی اختلافات کی واضح علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر بروقت اختلافات کو حل نہ کیا گیا تو یہ صورتحال آنے والے سیاسی فیصلوں اور صوبائی حکومت کے نظم و نسق پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں یہ کمیٹی فوری طور پر اپنی مشاورت کا آغاز کرے گی اور فریقین سے رابطے کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے اندرونی اختلافات پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں اور وزیر اعلی کے پی کے کی من مانیاں اور غلط فیصلوں نے پارٹی کو بند گلی میں لاکھڑا کیا ہے۔اب موجودہ کمیٹی کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ کیا یہ واقعی اعتماد کی بحالی میں کردار ادا کر پاتی ہے یا نہیں۔