پاکستان پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے تیار، 4 بڑے منصوبے سامنے آگئے

پاکستان پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے تیار، 4 بڑے منصوبے سامنے آگئے

پاکستان نے ملک میں پانی کی طویل مدتی حفاظت کو یقینی بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) کے بڑھتے ہوئے شدید خطرات سے نمٹنے کے لیے 4 بڑے ہائیڈرو پاور ڈیموں کی تعمیراتی سرگرمیوں کو ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دیا ہے۔

سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق ان اسٹریٹجک منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت میں 80 لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ کا ایک تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔

سرکاری خبر رساں ادارے نے اپنی دستاویزی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ اس وقت پاکستان کے مختلف حصوں میں جن 4 اہم منصوبوں پر دن رات کام جاری ہے، ان کی مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی زندہ صلاحیت (لائیو اسٹوریج کیپیسٹی) 8.136 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی میڈیا من گھڑت کہانیاں سنانے سے باز نہ آیا، پاکستان میں پانی کی شدید قلت کا دعویٰ

سرکاری رپورٹ کے مطابق ان مینوفیکچرنگ منصوبوں کی لسٹ میں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، کرم تنگی ڈیم اور نئی گاج ڈیم جیسے میگا پراجیکٹس شامل ہیں۔

متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ان ڈیموں کی بروقت تعمیر سے نہ صرف زرعی مقاصد اور پینے کے پانی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئے گی، بلکہ یہ منصوبے مستقبل میں تباہ کن سیلابوں کی روک تھام اور ملک میں سستی و ماحول دوست ہائیڈرو الیکٹرک بجلی پیدا کرنے کی قومی صلاحیت میں بھی گراں قدر اضافہ کریں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ ڈیمز پاکستان کی سستی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوں گے۔

حکومتی اور پانی کے شعبے کے ماہرین نے بارہا خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں آبادی کے دباؤ کے باعث پانی کی طلب اور رسد میں خلیج خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے، جس کے باعث نئے اور بڑے ڈیم بنانا اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک اہم ترین قومی ترجیح بن چکا ہے۔

موجودہ دور میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں کے بے ترتیب اور بدلتے ہوئے نظام اور شمالی علاقہ جات میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور موجودہ ذخائر پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان حالات میں ان 4 بڑے ڈیموں پر کام کی رفتار تیز کرنا ملکی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں پانی کی قلت اور ڈیموں کی تاریخی ضرورت

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور ارضیاتی ماہرین کے مطابق ملک تیزی سے ’واٹر اسکارس‘ یعنی پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی لائن میں شامل ہو رہا ہے۔

پاکستان کے پاس اس وقت تربیلا اور منگلا جیسے بڑے ڈیموں میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بمشکل 30 سے 40 دن کی ہے، جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق یہ کم از کم 120 دن ہونی چاہیے۔

ماضی میں نئے بڑے ڈیموں کی تعمیر میں سیاسی اور انتظامی تاخیر کے باعث ملک کو ہر سال سیلاب کی صورت میں اربوں کیوبک فٹ پانی ضائع ہونے اور خشک سالی کے سیزن میں پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

مزید پڑھیں:پاک چین دوستی کے نئے افق، صدر زرداری کی موجودگی میں 3 اہم ترین معاہدوں پر دستخط

موجودہ حکومت اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس بحران کے مستقل حل کے لیے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں پر مالیاتی اور تکنیکی وسائل کو یکجا کر کے کام کی رفتار کو تیز کیا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو قحط سالی سے بچایا جا سکے۔

گلیشیئرز کا پگھلنا اور فوری اسٹوریج کی ضرورت

پاکستان کے پاس دنیا میں قطبین کے باہر سب سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں۔ عالمی درجہ حرارت بڑھنے سے یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے عارضی طور پر دریاؤں میں پانی بڑھ رہا ہے۔

اگر یہ پانی ابھی ڈیموں میں ذخیرہ نہ کیا گیا تو اگلے چند دہائیوں میں گلیشیئرز ختم ہونے پر پاکستان کو بدترین قحط کا سامنا ہو سکتا ہے۔ 8.136 ملین ایکڑ فٹ اسٹوریج اس ممکنہ بحران کے خلاف ایک بڑا حفاظتی شیلڈ ثابت ہوگی۔

مہنگی امپورٹڈ انرجی سے نجات

پاکستان اس وقت بجلی بنانے کے لیے مہنگے امپورٹڈ ایندھن (کوئلہ، فرنس آئل اور ایل این جی) پر انحصار کرتا ہے، جس سے ملک کا مالیاتی خسارہ بڑھتا ہے۔ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے ہائیڈرو پاور منصوبے ملک کو ہزاروں میگاواٹ سستی اور گرین بجلی فراہم کریں گے، جس سے نہ صرف عوام کو سستی بجلی ملے گی بلکہ صنعتی پہیہ بھی تیز چلے گا۔

سیلاب کنٹرول اور لائیو اسٹاک کو تحفظ

ہر چند سال بعد مون سون کی بے ترتیب اور شدید بارشیں پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سبب بنتی ہیں۔ یہ نئے ڈیمز خصوصاً خیبر پختونخوا اور سندھ کے علاقوں میں سیلابی پانی کے تیز بہاؤ کو روک کر اسے ذخیرہ کر لیں گے، جس سے نیچے کے میدانی علاقوں میں جانی و مالی نقصان کا تدارک ممکن ہو سکے گا اور یہ پانی بعد میں زراعت کے لیے استعمال ہوگا۔

زرعی معیشت کو دوام

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ زراعت سے جڑا ہے۔ پانی کی دستیابی میں مستقل بہتری سے نہ صرف چاول، گندم اور کپاس کی فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار بڑھے گی بلکہ نئے بنجر علاقوں کو بھی زیرِ کاشت لایا جا سکے گا، جس سے ملک میں فوڈ سیکیورٹی حاصل ہوگی۔

Related Articles