پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے خوش آئند اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو سستی سفری سہولت فراہم کرنا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان نے بتایا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط پر گاڑیاں فراہم کی جائیں گی جبکہ فنانسنگ مکمل طور پر بلاسود ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رجسٹریشن اور دیگر سرکاری مراحل میں بھی خصوصی سہولیات اور مراعات دی جائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس منصوبے سے فائدہ اٹھا سکیں۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور انہیں جدید، ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اس اسکیم سے ہزاروں نوجوان نہ صرف اپنی آمدن میں اضافہ کر سکیں گے بلکہ خود روزگار کے مواقع بھی حاصل کریں گے۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے مزید کہا کہ الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
واضح رہے کہ حکومت اس اسکیم کی مکمل تفصیلات، درخواست کا طریقہ کار اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کرنے کا امکان رکھتی ہے۔ یہ منصوبہ پنجاب کے نوجوانوں کے لیے روزگار، سہولت اور ترقی کے نئے دروازے کھولنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔