انسانوں کی نقل کرتے کرتے طوطے حد سے بڑھ گئے

انسانوں کی نقل کرتے کرتے طوطے حد سے بڑھ گئے

انگلینڈ کے لنکن شائر وائلڈ لائف پارک میں پانچ افریقی گرے طوطوں نے اپنی شرارتوں سے سب کو حیران اور محظوظ کر دیا، جس کے بعد انہیں الگ الگ پنجرے میں منتقل کرنا پڑا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ طوطے 2020 میں ایک ساتھ قرنطینہ کے دوران رکھے گئے تھے، جہاں انہوں نے انسانی زبان کے ساتھ ساتھ غیر مناسب الفاظ بھی سیکھ لیے۔

یہ بھی پڑھیں :فرانس میں ڈپریشن کے علاج کے لیے گدھوں کی مدد، انوکھا طریقہ سامنے آ گیا

پارک میں موجود ان طوطوں کے نام بلی، ایرک، ٹائسن، جیڈ اور ایلسی بتائے گئے ہیں۔ عملے کے مطابق یہ پرندے نہ صرف گالیاں دینے لگے بلکہ ایک دوسرے کو اس رویے پر اکسانے بھی لگے، جس کے بعد پورا گروہ شور شرابہ اور ہنسی مذاق کے ساتھ غیر مناسب الفاظ دہرانے لگا۔

کئی سیاحوں نے اس صورتحال کو دلچسپ قرار دیا، تاہم انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ بچوں پر اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے چڑیا گھر کی انتظامیہ نے تمام طوطوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا تاکہ یہ رویہ باقی پرندوں تک نہ پھیل سکے۔

یہ بھی پڑھیں :500 نایاب پرندوں کی نسل ختم ہونے کے بعد دوبارہ لوٹ آئی

چڑیا گھر حکام نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اگر یہ طوطے باقی پرندوں کو بھی یہی زبان سکھا دیتے تو پورا پارک گالیاں دینے والے پرندوں سے بھر جاتا۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ افریقی گرے طوطے انتہائی ذہین اور سماجی طور پر حساس ہوتے ہیں، جو صرف آوازیں ہی نہیں بلکہ ردعمل اور ماحول کے مطابق رویہ بھی سیکھ لیتے ہیں۔

editor

Related Articles