جاپان میں تحفظِ جنگلی حیات کی ایک اور کامیاب مثال سامنے آئی ہے، جہاں دہائیوں بعد نایاب اور خطرے سے دوچار کریسٹڈ آئیبس پرندوں کو دوبارہ قدرتی ماحول میں چھوڑ دیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان کے نوتو خطے میں آٹھ کریسٹڈ آئیبس پرندوں کو آزاد کیا گیا، جو اس نایاب نسل کی بحالی کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
یہ پرندہ ماضی میں بے تحاشا شکار اور ماحولیاتی تباہی کے باعث جاپان سے تقریباً ناپید ہو گیا تھا۔ 2003 میں آخری مقامی جاپانی کریسٹڈ آئیبس کی موت کے بعد اس نسل کا ملک میں وجود ختم ہو گیا تھا۔
تاہم کئی برسوں پر محیط تحفظی منصوبوں اور افزائشِ نسل کے کامیاب پروگرام کے نتیجے میں اس نسل کی بحالی ممکن ہوئی۔ اس منصوبے میں چین نے بھی اہم تعاون فراہم کیا، جس کے بعد کریسٹڈ آئیبس کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت جاپان کے سادو جزیرے میں تقریباً 500 کریسٹڈ آئیبس قدرتی ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں، جو تحفظِ جنگلی حیات کی ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق نوتو خطے میں ان پرندوں کی حالیہ رہائی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ علاقہ 2024 کے تباہ کن زلزلے کے بعد اب بھی بحالی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں نایاب پرندوں کی واپسی کو خطے کے لیے امید اور بحالی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کریسٹڈ آئیبس کی واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلسل تحفظی اقدامات، بین الاقوامی تعاون اور مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے معدومی کے خطرے سے دوچار انواع کو دوبارہ زندگی دی جا سکتی ہے۔