آئندہ وفاقی بجٹ میں عوام اور مختلف کاروباری شعبوں کے لیے اہم مالیاتی فیصلوں جس میں مختلف اشیا پر ٹیکس مراعات کے خاتمے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ درآمدی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے، اسی طرح پولٹری اور مویشیوں کی خوراک پر بھی ٹیکس شرح بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سولر فوٹو وولٹائیک سیلز پر موجود ٹیکس سہولت واپس لینے کی تجویز بھی زیر غور ہے، اگر یہ تجاویز منظور ہو گئیں تو ان مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض بنیادی اشیائے خورونوش اور اسٹیشنری پر دی گئی رعایتی ٹیکس شرحوں کو ختم یا محدود کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ آٹھویں شیڈول کے تحت مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ متوقع ہے، ذرائع کے مطابق ان گاڑیوں کو حاصل موجودہ ٹیکس مراعات برقرار رہیں گی یا ختم کی جائیں گی، اس کا حتمی اعلان بجٹ میں کیا جائے گا۔
اس شعبے سے وابستہ کاروباری حلقے حکومتی فیصلے کے منتظر ہیں کیونکہ اس کا براہ راست اثر گاڑیوں کی قیمتوں اور مارکیٹ کے رجحانات پر پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ اقدامات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت ٹیکس استثنیٰ کم کرنے اور یکساں ٹیکس نظام کے قیام کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکس رعایتوں میں کمی سے محصولات بڑھانے میں مدد ملے گی، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ان فیصلوں کے نتیجے میں کئی مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں، جس کا اثر براہ راست صارفین پر پڑے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس پالیسی کے حوالے سے آئندہ بجٹ میں کئی اہم فیصلے متوقع ہیں۔ حکومت رعایتی ٹیکس شرحوں اور مختلف شعبوں کو دی گئی مراعات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔
وفاقی بجٹ اس بات کا تعین کرے گا کہ مختلف صنعتوں اور اشیا کو مستقبل میں ٹیکس ریلیف ملے گا یا نہیں، جبکہ عوام کی نظریں بھی بجٹ میں کیے جانے والے ان اہم اعلانات پر لگی ہوئی ہیں۔