ناکامی کے بعد دشمن اندرونی اختلافات پیدا کرنے کی سازش کر رہا ہے، قوم متحد رہے، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای

ناکامی کے بعد دشمن اندرونی اختلافات پیدا کرنے کی سازش کر رہا ہے، قوم متحد رہے، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای

ایران کے دارالحکومت تہران سمیت ملک بھر میں بانیِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی 37 ویں برسی انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔

اس تاریخی اور حساس موقع پر ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک اہم ترین تحریری پیغام پڑھ کر سنایا گیا ہے۔

اپنے پیغام میں سپریم لیڈر نے انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ایران کے دیرینہ عسکری اور سیاسی دشمن میدانِ جنگ میں بدترین شکست کا سامنا کرنے کے بعد اب عسکری محاذ چھوڑ کر ملک کے اندرونی حالات کو خراب کرنے اور ایرانی عوام کے مابین شدید اختلافات پیدا کرنے کی خطرناک ترین کوششیں کر رہے ہیں۔

قومی اتحاد اور یکجہتی کا بیانیہ

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے خصوصی تحریری پیغام میں اس بات پر سختی سے زور دیا کہ دشمن کی ان تمام پوشیدہ سازشوں اور اندرونی خطرات کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے اس وقت ’قومی اتحاد‘ اور باہمی یکجہتی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

انہوں نے قوم کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجودہ نازک حالات کے دوران عوام کے اندر کسی بھی قسم کی مایوسی، بددلی یا ناامیدی پھیلانے والا کوئی بھی عمل، چاہے وہ دانستہ ہو یا نادانستہ، درحقیقت براہِ راست دشمن کی مدد کرنے اور اس کے ناپاک عزائم کو کامیاب بنانے کے مترادف سمجھا جائے گا۔

ایرانی عوام کی استقامت پر وار

تحریری پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ بیرونی طاقتیں تہران پر براہِ راست عسکری دباؤ ڈالنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں، جس کے بعد اب ان کا نیا ہدف ایرانی عوام کی تاریخی استقامت اور انقلابی جذبے کو کمزور کرنا ہے۔

انہوں نے خط میں لکھا کہ ’ دشمن اب ’ہائبرڈ وارفیئر‘ کے ذریعے پروپیگنڈا پھیلا کر ایرانی معاشرے کو اندر سے تقسیم کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے، لیکن ایرانی عوام ماضی کی طرح اس بار بھی دشمن کے ان حربوں کو ملکی اتحاد کی طاقت سے مکمل طور پر ناکام بنا دیں گے۔

آیت اللہ روح اللہ خمینی نے سال 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب کی قیادت کی تھی، جس نے ملک میں دہائیوں پرانی بادشاہت کا خاتمہ کر کے ایک نیا سیاسی و مذہبی نظام متعارف کرایا تھا۔

ان کی وفات سال 1989 میں 86 سال کی عمر میں ہوئی تھی اور تب سے اب تک ہر سال 4 جون کو ان کی برسی کا مرکزی اجتماع منعقد کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکہ جنگ میں شکست کے بعد نئی چالیں چل رہا ہے، مجتبیٰ خامنہ ای

سال 2026 کی یہ برسی اس لحاظ سے انتہائی غیر معمولی اور منفرد ہے کیونکہ یہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد، نئے عسکری و سیاسی چیلنجز کے سائے میں منائی جا رہی ہے۔

مارچ 2026 میں ایران کی ماہرین کی کونسل نے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا تھا اور ان کی قیادت میں یہ پہلی بڑی قومی یادگاری تقریب ہے جس کے دوران ملک شدید بیرونی اور علاقائی کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے۔

تہران سے ملنے والی عسکری اور انتظامی معلومات کے مطابق، بانیِ انقلاب کی برسی کی یہ مرکزی تقریب جنوبی تہران میں واقع ان کے مزار پر منعقد کی گئی، جہاں صبح 6:30 بجے ہی زائرین کے لیے دروازے کھول دیے گئے تھے۔

اس تقریب میں لاکھوں عام شہریوں کے علاوہ ایران کی سول اور فوجی قیادت، پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز اور متعدد ممالک کے وفود نے شرکت کی۔

انتظامیہ کے مطابق، سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اس اہم ترین تحریری پیغام کو دنیا کی بڑی زبانوں بشمول اردو، عربی اور انگریزی میں ترجمہ کر کے بین الاقوامی سطح پر بھی نشر کیا جا رہا ہے تاکہ ایران کے عزمِ نو سے دنیا کو آگاہ کیا جا سکے۔

خطے کی موجودہ نازک سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ عسکری تنازعات کے باعث اس سال سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے اور تقریب کی کوریج کے لیے ریکارڈ تعداد میں ملکی و غیر ملکی صحافی تہران پہنچے۔

اگر سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اس تحریری پیغام کا باریک بینی سے سیاسی اور اسٹرٹیجک تجزیہ کیا جائے، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت ملک کو درپیش اندرونی سیکیورٹی چیلنجز اور بیرونی پروپیگنڈا مہم سے بخوبی واقف ہے۔

مزید پڑھیں:’سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو مذہبی طور پر ممنوع قرار دیدیا‘

‘میدانِ جنگ میں شکست کے بعد اختلافات پیدا کرنے کی کوشش’ کا جملہ براہِ راست اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایران کے عسکری مخالفین، خصوصاً اسرائیل، براہِ راست جنگی محاذ پر تہران کو جھکانے میں ناکام رہنے کے بعد اب نفسیاتی اور معاشی جنگ کا سہارا لے رہے ہیں۔

مارچ 2026 میں قیادت سنبھالنے کے بعد، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملکی استحکام کو برقرار رکھنا اور عوامی اعتماد کو بحال رکھنا ہے۔

دشمن اس منتقلیِ قیادت کے عبوری دور کا فائدہ اٹھا کر ایرانی عوام میں معاشی مشکلات اور سیاسی تبدیلیوں کے نام پر مایوسی پھیلانا چاہتا ہے۔

سپریم لیڈر نے مایوسی پھیلانے کو ’دشمن کی مدد‘ قرار دے کر ملکی میڈیا، دانشوروں اور عام شہریوں کو ایک واضح گائیڈ لائن دے دی ہے کہ اس وقت ریاست کے بیانیے کے خلاف کھڑے ہونا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے مترادف سمجھا جائے گا۔

 یہ پیغام یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی اور عسکری استقامت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور بیرونی دباؤ کا جواب اندرونی یکجہتی کی مضبوط دیوار سے دے گا۔

Related Articles