خیبرپختونخوا کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کو باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پشاور پر پرواز سے بورڈنگ سے قبل ہی روک دیا۔
صوبائی وزیر محکمۂ اعلیٰ تعلیم کے ایک سرکاری وفد کی قیادت کرتے ہوئے جرمنی کی معروف ٹوبنگن یونیورسٹی کے دورے پر جا رہے تھے، جہاں انہیں تعلیمی تعاون اور سکالرشپ کے حوالے سے اہم معاہدوں پر دستخط کرنے تھے۔
تاہم آخری لمحات میں ایف آئی اے حکام نے ان کا نام ’سٹاپ لسٹ‘ یا ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہونے کے باعث سفر کرنے سے روک دیا اور انہیں باچا خان انٹرنیشنل ایئر پورٹ پشاور پر آف لوڈ کر دیا گیا۔
مینا خان آفریدی کا ردعمل
واقعے کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے ان کے بیرون ملک سفر پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کے واضح اور تحریری احکامات موجود ہونے کے باوجود انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے پاس عدالت عالیہ کا فیصلہ موجود تھا جو میں نے ایف آئی اے حکام کو دکھایا، لیکن افسران نے عدالتی احکامات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے مجھے جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا۔ یہ نہ صرف میری توہین ہے بلکہ پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے‘۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کے خلاف دوبارہ عدالت سے رجوع کریں گے اور توہینِ عدالت کی کارروائی کے لیے درخواست دائر کریں گے۔
صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے اور وہ ماضی میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں اور سیاسی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کے نام نو فلائی لسٹ اور سفری پابندیوں کی فہرستوں میں شامل کیے گئے ہیں۔
اگرچہ مینا خان آفریدی نے اس فہرست کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر کے ریلیف حاصل کر لیا تھا، لیکن ایئرپورٹ پر امیگریشن کے نظام میں ان کا نام مبینہ طور پر اپ ڈیٹ نہ ہونے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔