بھارتی صحافی و تجزیہ کار بھی فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تعریف کرنے پر مجبور

بھارتی صحافی و تجزیہ کار بھی فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تعریف کرنے پر مجبور

امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد پاکستان کے سفارتی کردار کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور توجہ حاصل ہو رہی ہے جبکہ بھارتی صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے بھی پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کاوشوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔مختلف بھارتی ٹی وی پروگراموں اور تجزیاتی نشستوں میں پاکستان کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرنے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔

بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال میں پاکستان کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق آج صورتحال یہ ہے کہ امریکا کو پاکستان کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے، کیونکہ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ ویسٹ ایشیا میں بھی ایک مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بھارت میں چرچے،بھارتی تجزیہ کار بھی تعریف پر مجبور

بھارتی صحافیوں نے اپنے تبصروں میں کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کے باعث اسے خطے میں امن کا ضامن اور مؤثر ثالث سمجھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے سعودی عرب، ترکی، چین اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات اسے عالمی سفارت کاری میں ایک منفرد مقام فراہم کرتے ہیں۔

تجریہ نگاروں کے مطابق پاکستان ایسے چند ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت امریکا، چین، سعودی عرب، ترکی اور ایران کے ساتھ رابطے اور تعلقات برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ خطے کے اہم تنازعات کے حل میں اس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد سعودی عرب کی قیادت نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون کرکے معاہدے کی کامیابی پر مبارکباد دی اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

 یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران امن معاہدہ: ’’نوبل پیس پرائز فار فیلڈ مارشل عاصم منیر‘‘ ایکس پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا 

شہزادہ محمد بن سلمان نے گفتگو کے دوران کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مشترکہ سفارتی کاوشوں نے مذاکراتی عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مذاکرات کے آئندہ مراحل میں باقی ماندہ مسائل کو جنگ یا تصادم کے بجائے بات چیت، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

editor

Related Articles