تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری،6 لاکھ تک ٹیکس فری، نئے سلیبس متعارف ، مکمل تفصیلات آ گئیں، آج منظوری

تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری،6 لاکھ تک ٹیکس فری، نئے سلیبس متعارف ، مکمل تفصیلات آ گئیں، آج منظوری

نئے مالی سال کے فنانس بل میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبس متعارف کرا دیے گئے ہیں جن کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ نئے فنانس بل کا حتمی مسودہ قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جس میں ملازمین کی آمدن کے حساب سے ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔

فنانس بل کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو انکم ٹیکس سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ اس سے زائد آمدن رکھنے والے افراد پر مختلف سلیب کے تحت ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

نئے ٹیکس سلیب کے مطابق

  • 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 1 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

  • 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے 6 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے جبکہ 12 لاکھ سے زائد آمدن پر 11 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

  • 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 1 لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس جبکہ اضافی آمدن پر 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ اس سلیب میں ٹیکس شرح کو پہلے کے مقابلے میں کم کیا گیا ہے، جو 23 فیصد تھی۔

  • 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے 3 لاکھ 46 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 25 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔

  • 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 5 لاکھ 41 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس جبکہ اضافی رقم پر 29 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

  • 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے 9 لاکھ 76 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی آمدن پر 32 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔

  • 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 14 لاکھ 24 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس جبکہ اضافی آمدن پر 35 فیصد انکم ٹیکس عائد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول سستا ہونے کے بعد بیٹریاں اور سولر پلیٹس کی قیمتیں مزید گر گئیں

حکام کے مطابق نئے سلیبس کا مقصد ٹیکس نظام کو مزید منظم بنانا اور آمدن کے مختلف طبقات کے مطابق ٹیکس وصولی کا نظام تشکیل دینا ہے۔ فنانس بل کی منظوری کے بعد یہ نئے قواعد نئے مالی سال کے آغاز یعنی یکم جولائی سے نافذ العمل ہوں گے۔

نئے ٹیکس سلیبس میں خاص طور پر درمیانی آمدن والے تنخواہ دار طبقے کے لیے بعض شعبوں میں ٹیکس شرح میں کمی بھی تجویز کی گئی ہے جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والے طبقات کے لیے بلند شرح برقرار رکھی گئ

editor

Related Articles