ایران سے متعلق حالیہ عالمی پیش رفت کے بعد پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے باعث ریال کی قیمت میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
کرنسی مارکیٹ سے وابستہ ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی خبروں کے بعد سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد ایرانی ریال کی خریداری کی جانب متوجہ ہو گئی ہے۔ مارکیٹ میں اس وقت روزانہ اوسطاً 30 سے 40 ارب روپے مالیت کے ایرانی ریال فروخت ہو رہے ہیں جبکہ ایکسچینج کمپنیوں اور کرنسی ڈیلرز کے پاس خریداروں کا رش غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی ریال کی اصل مارکیٹ ویلیو فی ایک کروڑ ریال تقریباً 2 ہزار سے 2300 پاکستانی روپے بنتی ہے تاہم بڑھتی ہوئی طلب اور قیاس آرائیوں کے باعث یہی ایک کروڑ ایرانی ریال اوپن مارکیٹ میں 8 ہزار سے 12 ہزار روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔
خریداروں کی بڑی تعداد اس توقع کے تحت ریال خرید رہی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بعد ایرانی معیشت میں بہتری آئے گی اور ریال کی قدر مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے انہیں مستقبل میں منافع حاصل ہوگا۔
اسی توقع کے باعث ایرانی ریال کی خریداری کا رجحان مسلسل برقرار ہے اور ایکسچینج کمپنیوں کے پاس خریداروں کا دباؤ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے۔ مارکیٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے دنوں میں ایرانی ریال کی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔