چین نے تقریباً ایک دہائی بعد ایک بار پھر دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ نیا سپر کمپیوٹر لائن شائن عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن پر پہنچ گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کے شہر شین ژین میں قائم نیشنل سپر کمپیوٹر سینٹر میں نصب لائن شائن نے 2.198 ایکسافلاپس کی کارکردگی حاصل کی، جس کے بعد اس نے امریکا کے سپر کمپیوٹر ایل کیپیٹن کو پیچھے چھوڑ دیا، جس کی کارکردگی 1.809 ایکسافلاپس ریکارڈ کی گئی تھی۔
لائن شائن کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ٹاپ 500 فہرست کا پہلا سپر کمپیوٹر ہے جس نے صرف سی پی یوزکی مدد سے دو ایکسافلاپس سے زیادہ مسلسل ڈبل پریسیژن کارکردگی حاصل کی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام 2.736 ایکسافلاپس کی نظریاتی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی زیادہ سے زیادہ صلاحیت کا تقریباً 80 فیصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
ٹاپ 500 کے منتظم ڈاکٹر جیک ڈونگارا نے چینی سپر کمپیوٹر کو متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے جدید جی پی یوز کے بغیر بھی سابق عالمی ریکارڈ ہولڈر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
یہ سپر کمپیوٹر خصوصی طور پر تیار کردہ 304 کور پروسیسرز پر مشتمل ہے اور اس میں مجموعی طور پر 1 کروڑ 37 لاکھ 90 ہزار کورز موجود ہیں، جو 1.55 گیگا ہرٹز کی رفتار سے کام کرتے ہیں۔
سپر کمپیوٹر کے مختلف حصوں کو جوڑنے کے لیے ایک خصوصی انٹرکنیکٹ سسٹم استعمال کیا گیا ہے، جس نے اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا۔
توانائی کے لحاظ سے لائن شائن تقریباً 42.2 میگاواٹ بجلی استعمال کرتا ہے اور اس کی توانائی کی کارکردگی 52.07 گیگافلاپس فی واٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اگرچہ امریکی سپر کمپیوٹر ایل کیپیٹن توانائی کے استعمال میں زیادہ مؤثر ہے، تاہم مجموعی کمپیوٹنگ طاقت میں لائن شائن سب پر سبقت لے گیا ہے۔
تازہ ترین ٹاپ500 درجہ بندی کے مطابق دنیا میں اس وقت پانچ سپر کمپیوٹر ایسے ہیں جو ایک ایکسافلاپس سے زیادہ کارکردگی فراہم کرتے ہیں۔ ان میں چین کا ایک، امریکا کے تین اور جرمنی کا ایک سپر کمپیوٹر شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید سپر کمپیوٹنگ کی دوڑ میں مختلف کمپنیاں اور ممالک مختلف ٹیکنالوجیز استعمال کر رہے ہیں، جن میں انٹیل، اے ایم ڈی، این ویڈیا اور چینی ساختہ ہارڈویئر شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے لائن شائن کے پروسیسرز بنانے والی کمپنی یا استعمال ہونے والی چِپ ٹیکنالوجی کی تفصیلات تاحال عوام کے سامنے نہیں لائیں۔