پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے موبائل فون خریدنے والوں کے لیے ایک اہم اور سخت نوعیت کا پیغام جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی یا غیر منظور شدہ موبائل فونز خودکار نظام کے تحت بند کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث صارفین کو بعد میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق ملک میں ایک جدید نظام نافذ کیا گیا ہے جسے ڈیوائس شناخت، رجسٹریشن اور بلاکنگ نظام کہا جاتا ہے، جس کا مقصد اسمگل شدہ، غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ موبائل فونز کی روک تھام ہے۔
اس نظام کے تحت ہر موبائل فون کی شناختی حیثیت کو چیک کیا جاتا ہے اور اگر کوئی ڈیوائس غیر قانونی یا غیر رجسٹرڈ پائی جائے تو اسے موبائل نیٹ ورکس پر کام کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں موبائل فون مارکیٹ کو شفاف بنانا، اسمگلنگ کی روک تھام اور صارفین کو محفوظ اور قانونی ڈیوائسز کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق غیر رجسٹرڈ موبائل فونز کی شناخت ان کے منفرد شناختی نمبروں کے ذریعے کی جاتی ہے اور جیسے ہی کسی ڈیوائس کی حیثیت غیر قانونی ثابت ہو، اسے سسٹم سے بلاک کر دیا جاتا ہے۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بعض صارفین بیرون ملک سے موبائل فون لاتے ہیں اور انہیں قانونی رجسٹریشن کے بغیر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو بعد میں بندش کا سبب بن سکتا ہے،اس لیے شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موبائل فون خریدنے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت ضرور چیک کریں۔
حکومت کے مالیاتی ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے طے شدہ ٹیکس ادا کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ ڈیوائس کی رجسٹریشن مکمل طور پر قانونی حیثیت اختیار کر سکے۔
اس نظام کے نفاذ سے نہ صرف غیر قانونی موبائل فونز کی فروخت میں کمی آئی ہے بلکہ مقامی مارکیٹ میں قانونی ڈیوائسز کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔
پی ٹی اے نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ موبائل فون خریدتے وقت مکمل احتیاط کریں، صرف منظور شدہ ڈیوائسز ہی خریدیں اور کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لیے قانونی طریقہ کار کے مطابق رجسٹریشن یقینی بنائیں۔