نسوارپر ایک تحقیق نے سب کو حیران کر دیا ہے نسوار تمباکو کی ایک ایسی شکل ہے جو عام طور پر ہونٹ یا گال کے نیچے رکھی جاتی ہے اور پاکستان، افغانستان سمیت وسطی ایشیا کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض افراد نسوار کو وقتی طور پر فائدہ مند سمجھتے ہیں تاہم یہ دراصل ایک نقصان دہ عادت ہے جو جسم میں نکوٹین کے انحصار کو بڑھاتی ہے۔
وقتی اثرات اور عام غلط فہمیاں
کچھ صارفین کے مطابق نسوار استعمال کرنے سے وقتی طور پر تھکن میں کمی محسوس ہوتی ہے اور ذہن کچھ دیر کے لیے چست رہتا ہے بعض افراد اسے بھوک کم کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، خاص طور پر محنت مزدوری کرنے والے افراد کام کے دوران اس کا سہارا لیتے ہیں۔
اسی طرح کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ نسوار سے وقتی طور پر ذہنی دباؤ یا سر درد میں کمی محسوس ہوتی ہے، کیونکہ نکوٹین دماغ میں عارضی طور پر سکون کا احساس پیدا کرتی ہے تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ تمام اثرات وقتی ہوتے ہیں اور جسم آہستہ آہستہ نکوٹین پر انحصار کرنے لگتا ہے۔
نسوار کے سائنسی طور پر ثابت نقصانات
طبی ماہرین کے مطابق نسوار کے استعمال سے منہ، ہونٹ اور گلے کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس میں نکوٹین کے علاوہ کئی خطرناک کیمیکل بھی شامل ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ عادت مسوڑھوں اور دانتوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے، دانت پیلے پڑ جاتے ہیں، مسوڑھے کمزور ہو جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ دانت گرنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
نکوٹین کی وجہ سے یہ ایک نشہ آور عادت بن جاتی ہے جسے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے کیونکہ نکوٹین بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو متاثر کرتی ہے اس کے علاوہ نظامِ ہضم پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں جن میں منہ کے زخم، معدے کی جلن اور متلی شامل ہیں۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ نسوار چھوڑنے کی صورت میں جسم میں چڑچڑاپن، سر درد، بے چینی اور نیند کی کمی جیسے نفسیاتی اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں۔
نسوار کے متبادل
ماہرین صحت کے مطابق اس عادت کو کم کرنے یا چھوڑنے کے لیے کچھ قدرتی اور محفوظ متبادل استعمال کیے جا سکتے ہیں، جن میں سونف، الائچی، لونگ اور لیموں کے خشک چھلکے شامل ہیں یہ چیزیں منہ کو تازگی دینے، ذائقہ برقرار رکھنے اور نکوٹین کی خواہش کم کرنے میں مددگار سمجھی جاتی ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نسوار اگرچہ ایک عام روایتی عادت ہے، لیکن اس کے صحت پر نقصانات سائنسی طور پر ثابت ہو چکے ہیں، اس لیے اس کے استعمال میں احتیاط اور آگاہی نہایت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں سنگین بیماریوں سے بچا جا سکے۔