ایجنٹ مافیا اور مڈل مین کا پتا صاف، ڈی جی پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کا انقلابی اعلان

ایجنٹ مافیا اور مڈل مین کا پتا صاف، ڈی جی پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کا انقلابی اعلان

ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا نے ملک بھر میں پاسپورٹ کے حصول اور تجدید کے روایتی نظام کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع اور انقلابی ‘ڈیجیٹل تبدیلی پروگرام’ کا اعلان کر دیا ہے۔

میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خصوصی ہدایات پر نافذ کیے جانے والے اس پروگرام کے تحت پاسپورٹ موبائل ایپ، پاسپورٹس کی براہِ راست ہوم ڈیلیوری اور کیو آر کوڈ پر مبنی جدید ترین ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے مڈل مین اور کرپشن کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔

پاسپورٹ موبائل ایپ، گھر بیٹھے تمام خدمات تک رسائی

ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا نے مجوزہ پاسپورٹ موبائل ایپ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس جدید ترین ایپلی کیشن کے ذریعے ملک اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی شہری اپنے موبائل فون کی اسکرین سے ہی نئے پاسپورٹ کے لیے اپلائی کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:پاسپورٹ کے لیے نقد فیس وصولی ختم ،نیا نظام متعارف

اس کے علاوہ پاسپورٹ کی تجدید (رینیوول)، درخواست جمع کرانے کے بعد اس کی پیش رفت (اسٹیٹس ٹریکنگ) اور دیگر تمام ضروری اور ثانوی خدمات تک شہریوں کو گھر بیٹھے انتہائی آسان اور تیز رفتار رسائی حاصل ہو جائے گی۔

ہوم ڈیلیوری سروس، اب لائنوں میں لگنے کی ضرورت نہیں

عوام کے لیے ایک اور بڑی سہولت کا ذکر کرتے ہوئے محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ محکمہ پاسپورٹس اس وقت ایک جدید اور محفوظ ’ہوم ڈیلیوری سروس‘ متعارف کرانے پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔

اس سروس کے فعال ہونے کے بعد، درخواست گزاروں کو اپنے تیار شدہ پاسپورٹس وصول کرنے کے لیے دوبارہ دفاتر کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے اور نہ ہی لمبی لائنوں میں کھڑا ہونا پڑے گا، بلکہ محکمہ ڈاک یا رجسٹرڈ کورئیر سروس کے ذریعے پاسپورٹ براہِ راست شہریوں کے گھر کی دہلیز پر پہنچا دیا جائے گا۔

کیو آر کوڈ ادائیگی کا نظام اور ایجنٹ مافیا کا خاتمہ

ڈی جی پاسپورٹ نے مزید کہا کہ نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جلد ہی کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔

اس ڈیجیٹل فنانشل سسٹم کی بدولت تمام فیسوں کی ادائیگیاں 100 فیصد محفوظ، کیش لیس اور شفاف انداز میں ممکن ہوں گی۔ اس اقدام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ پاسپورٹ دفاتر کے باہر سرگرم غیر قانونی ایجنٹ مافیا، مڈل مین کا کردار اور رشوت ستانی کی تمام گنجائشیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کا ویژن اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

محمد علی رندھاوا نے واضح کیا کہ یہ تمام تر اصلاحات وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سخت اور واضح ہدایات کے مطابق نافذ کی جا رہی ہیں، جن کا واحد مقصد ملک بھر میں پاسپورٹ خدمات کو جدید، مؤثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنانا ہے۔

مزید پڑھیں:پاسپورٹ نظام میں اصلاحات، حکومت کا مکمل ای پاسپورٹ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ڈیجیٹل تبدیلی حکومتِ پاکستان کے اس پختہ عزم کی عکاس ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے شہریوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق قابلِ اعتماد خدمات فراہم کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسا پاسپورٹ نظام قائم کر رہے ہیں جہاں ہر درخواست گزار کو منصفانہ، محفوظ اور بروقت خدمات میسر آئیں۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان بھر میں پاسپورٹ دفاتر کو شدید انتظامی بحران، لیمینیشن پیپرز اور سیاہی کی کمی، اور پاسپورٹس کی پرنٹنگ میں مہینوں کی تاخیر جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

اس سپلائی چین بحران کے باعث لاکھوں شہریوں بالخصوص اوورسیز پاکستانیوں، طلبہ اور عمرہ و حج کے زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے ساتھ ہی، دفاتر کے باہر مڈل مین اور کرپٹ عناصر نے شہریوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ارجنٹ پاسپورٹ کے نام پر اضافی رقوم بٹورنا شروع کر دیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عہدہ سنبھالتے ہی اس بحران کا نوٹس لیا اور ڈی جی پاسپورٹ کو پرنٹنگ مشینیں بڑھانے اور پورے نظام کو آن لائن شفٹ کرنے کے احکامات جاری کیے۔

ڈی جی پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کا یہ اعلان پاکستانی بیوروکریسی اور پبلک سروس ڈیلیوری میں ایک خوش آئند اور دور رس تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سرکاری دفاتر میں ‘فائل کلچر’ اور ایجنٹ مافیا جڑ پکڑ چکا ہے، نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنا ہی کرپشن کو روکنے کا واحد مؤثر علاج ہے۔

مزید پڑھیں:حکومت آزاد کشمیر کا کالعدم ایکشن کمیٹی کے خلاف سخت ایکشن، 154 لیڈران اور ممبران کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور بینک اکاؤنٹ منجمد

سیاسی محاذ پر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اپنی تیز رفتار کارکردگی (جنہیں اکثر ‘نقوی اسپیڈ’ بھی کہا جاتا ہے) کے لیے جانے جاتے ہیں اور پاسپورٹ نظام کی یہ اصلاحات ان کے انتظامی بیانیے کو مزید تقویت دیں گی۔

تاہم اس پروگرام کی اصل کامیابی اس کے عملی نفاذ میں چھپی ہے۔ محکمہ پاسپورٹس کو موبائل ایپ کے آغاز کے ساتھ ساتھ اپنے بیک اینڈ سرورز، ڈیٹا سیکیورٹی اور پرنٹنگ کی رفتار کو بھی اپ گریڈ کرنا ہوگا، تاکہ جب موبائل ایپ سے لاکھوں کی تعداد میں درخواستیں موصول ہوں، تو پاسپورٹ بیک لاگ کا نیا بحران جنم نہ لے سکے۔

ہوم ڈیلیوری سروس کا آئیڈیا بہترین ہے بشرطیکہ کورئیر کمپنیوں کے ساتھ سیکیورٹی پروٹوکولز انتہائی سخت رکھے جائیں تاکہ پاسپورٹ جیسے حساس ترین قومی دستاویز کا غلط استعمال نہ ہو۔

Related Articles