بیلجیم کی مشہور ریسنگ کبوتر ’’نیو کم ‘‘نے دنیا بھر میں اس وقت توجہ حاصل کی جب اسے ایک عوامی نیلامی میں تقریباً 19 لاکھ امریکی ڈالرجو تقریبا 54 کروڑ پاکستانی روپے بنتی ہے میں ایک چینی خریدار کے ہاتھ فروخت کیا گیا۔ اس فروخت نے اسے دنیا کے مہنگے ترین کبوتروں میں شامل کر دیا۔
نیو کم فروخت کے وقت صرف دو سال کی تھی، لیکن اس مختصر عرصے میں وہ طویل فاصلے کی کئی اہم ریسیں جیت کر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی تھی۔
ماہرین کے مطابق اس نیلامی کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ نیو کم ایک مادہ کبوتر ہے، جبکہ عام طور پر افزائش نسل کے لیے نر کبوتروں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ تاہم اس کے شاندار ریسنگ ریکارڈ اور مضبوط جینیاتی خصوصیات نے بین الاقوامی خریداروں کے درمیان سخت مقابلہ پیدا کر دیا، جس کے نتیجے میں اس کی قیمت لگژری سپر کاروں اور قیمتی فن پاروں کے برابر جا پہنچی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خریدار نے یہ خطیر رقم نیو کم کی ریسنگ کے لیے نہیں بلکہ اس کی بہترین جینیاتی خصوصیات حاصل کرنے کے لیے ادا کی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی آئندہ نسل بھی غیر معمولی رفتار، قوت برداشت اور راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت وراثت میں حاصل کر سکتی ہے۔
کبوتر بازی ایشیا، خصوصاً چین میں ایک بڑی اور منافع بخش صنعت بن چکی ہے، جہاں بعض ریسوں کے انعامات بھی لاکھوں ڈالر تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے نیو کم کو فروخت کے بعد ایک خصوصی سیکیورٹی کمپنی کی نگرانی میں رکھا گیا تاکہ دنیا کے اس قیمتی پرندے کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
یہ منفرد واقعہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ جدید دور میں ریسنگ کبوتروں کی دنیا صرف ایک شوق نہیں بلکہ کروڑوں ڈالر کی عالمی صنعت میں تبدیل ہو چکی ہے۔