مریخ کے نیچے کیا چھپا ہے؟ سائنس دانوں نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیا

مریخ کے نیچے کیا چھپا ہے؟ سائنس دانوں نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیا

سائنس دانوں نے مریخ سے متعلق ایک اہم تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ سرخ سیارے کے اندر ماضی میں بڑے اور پیچیدہ میگما (پگھلی ہوئی چٹان) کے نظام موجود تھے، جو زمین کے میگما سسٹمز سے حیرت انگیز حد تک مشابہت رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس دیرینہ تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ ایسے پیچیدہ ارضیاتی نظام صرف ان سیاروں پر تشکیل پاتے ہیں جہاں پلیٹ ٹیکٹونکس موجود ہو۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مریخ ایک ’’اسٹیگننٹ لِڈ‘‘سیارہ ہے، یعنی اس کی سطح زمین کی طرح حرکت کرنے والی ٹیکٹونک پلیٹوں میں تقسیم نہیں۔ اسی وجہ سے سائنس دان طویل عرصے تک یہ سمجھتے رہے کہ مریخ کی اندرونی ساخت نسبتاً سادہ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں :بلیک ہول کا سب سے پراسرار راز بے نقاب؟ سائنسدانوں کا اہم انکشاف

تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مریخ نے پلیٹ ٹیکٹونکس کے بغیر بھی ایک پیچیدہ اور ارتقائی زمینی پرت (کرسٹ) تشکیل دی، جو مختلف ارضیاتی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مریخ کی ارضیاتی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی، ساتھ ہی یہ امکان بھی ظاہر کرتی ہے کہ دیگر چٹانی سیارے، جہاں پلیٹ ٹیکٹونکس موجود نہیں، وہاں بھی زندگی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کا ٹن کینڈی سے بھی ہلکے دو دیو ہیکل سیارے دریافت

سائنس دانوں کے مطابق زیرِ زمین موجود میگما نظام حرارت اور کیمیائی توانائی فراہم کرتے ہیں، جو ممکنہ طور پر جرثوموں جیسی سادہ حیات کے لیے موزوں ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اس نئی تحقیق کو مریخ سمیت دیگر سیاروں پر ممکنہ زندگی کی تلاش کے حوالے سے ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles