مالی سال 26-2025 پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے تاریخ کا مہنگا ترین سال ثابت ہوا، جہاں ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران شہریوں نے ملکی تاریخ کا سب سے مہنگا پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل خریدا، جبکہ پٹرولیم لیوی بھی ریکارڈ سطح پر برقرار رہی۔
حکومت نے اس مالی سال کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بڑھا کر 257 روپے 76 پیسے فی لیٹر تک پہنچا دی، جبکہ پیٹرول کی قیمت 199 روپے 98 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی۔
رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں عوام پر پٹرولیم لیوی کا بھی تاریخی بوجھ ڈالا گیا، جس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، اس اضافی مالی بوجھ نے عام صارفین کے لیے ایندھن کی خریداری مزید مہنگی بنا دی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتوں نے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے پر گہرے اثرات مرتب کیے بلکہ مجموعی مہنگائی میں بھی اضافہ کیا ، اس صورتحال کا براہِ راست اثر عام شہریوں کے روزمرہ اخراجات اور زندگی پر پڑا۔
حکام کے مطابق، مالیاتی دباؤ اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا تاہم، اس فیصلے کے اثرات عوامی سطح پر شدید محسوس کیے گئے، جہاں مہنگے پیٹرول اور ڈیزل نے شہریوں کی زندگی مشکل بنادی۔