صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک حادثات کے بڑھتے ہوئے خطرات کو روکنے کے لیے سٹی ٹریفک پولیس نے کم عمر اور بغیر ڈرائیونگ پرمٹ گاڑی یا موٹرسائیکل چلانے والوں کے خلاف ایک بار پھر سخت اور بے لچک کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور کی جانب سے فیلڈ افسران کو خصوصی اور واشگاف ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ 16 سے 18 سال کی عمر کے ایسے لڑکے جو بغیر لائسنس یا لرنر پرمٹ کے سڑکوں پر گاڑیاں دوڑا رہے ہیں، ان کی گاڑیاں اور بائیکس فوری طور پر تھانوں میں بند کی جائیں اور اس معاملے میں کسی کی کوئی سفارش قبول نہ کی جائے۔
گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی واپسی کے لیے سخت شرائط کا نفاذ
ٹریفک حکام کے مطابق اس بار کریک ڈاؤن کے قوانین کو انتہائی سخت بنایا گیا ہے تاکہ مستقل بنیادوں پر اس رجحان کا خاتمہ ہو سکے۔
نئے قانون کے تحت، پکڑی جانے والی موٹرسائیکل اس وقت تک مالک کو واپس نہیں کی جائے گی جب تک متعلقہ کم عمر ڈرائیور باقاعدہ قانونی ڈرائیونگ پرمٹ حاصل کر کے عدالت یا پولیس کے سامنے پیش نہ کرے۔
اسی طرح کم عمر کار ڈرائیورز کی گاڑیاں صرف اس صورت میں ریلیز کی جائیں گی جب ان کے والدین خود اراضی یا مجاز اتھارٹی کے پاس شورٹی بانڈ (ضمانتی مچلکہ) جمع کرائیں گے کہ ان کا بچہ آئندہ پرمٹ یا لائسنس کے بغیر گاڑی نہیں چلائے گا۔
شہر میں 13 مقامات پر پرمٹ سینٹرز کا قیام اور سی ٹی او کی اپیل
سی ٹی او لاہور نے شہریوں کی سہولت کے حوالے سے بتایا کہ شہر کے مختلف اور اہم 13 مقامات پر ڈرائیونگ پرمٹ اور ٹیسٹنگ کی جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ کوئی بھی شہری قانون کے دائرے میں آنے سے نہ بچ سکے۔
انہوں نے والدین پر سخت زور دیا کہ وہ اپنے 16 سے 18 سال کے بچوں کو بغیر پرمٹ سڑکوں پر نہ نکالیں بلکہ سب سے پہلے ان کے قانونی ڈرائیونگ پرمٹ بنوائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بغیر پرمٹ کم عمر ڈرائیونگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں کم عمر ڈرائیونگ (انڈر ایج ڈرائیونگ) ایک جان لیوا مسئلہ بن چکی ہے۔ ماضی میں ڈیفنس اور شہر کے دیگر پوش علاقوں میں کم عمر امیر زادوں کی تیز رفتاری کے باعث ہولناک کار حادثات پیش آ چکے ہیں، جن میں کئی معصوم خاندان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ان واقعات کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے بھی سخت ریمارکس دیے تھے اور پولیس کو کم عمر ڈرائیورز کے والدین کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا تھا۔ یہ حالیہ کریک ڈاؤن اسی عدالتی تشویش اور شہر کو حادثات سے پاک کرنے کی مستقل حکومتی پالیسی کا تسلسل ہے۔
والدین کی ذمہ داری کا تعین
گاڑیوں کی واپسی کو والدین کے شورٹی بانڈ سے مشروط کرنا ایک بہترین انتظامی چال ہے۔ اس سے والدین پر یہ دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے بچوں کو شوقیہ طور پر گاڑی کی چابیاں دینے سے گریز کریں، کیونکہ اب قانونی کارروائی کا دائرہ ان تک پہنچ رہا ہے۔
ڈیجیٹلائزیشن اور پرمٹ کا حصول
لاہور میں 13 مقامات پر پرمٹ سینٹرز کا فعال ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پولیس صرف چالان یا سزا نہیں دے رہی، بلکہ شہریوں کو متبادل اور آسان قانونی راستہ بھی فراہم کر رہی ہے۔ لرنر پرمٹ کی آن لائن اور فوری دستیابی سے اب شہریوں کے پاس قانون کی خلاف ورزی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
حادثات میں متوقع کمی
16 سے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بائیک وہیلنگ اور کار ریسنگ کا رجحان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس مخصوص عمر کے گروپ کو نشانہ بنانے سے شہر میں سڑکوں پر ہونے والے جان لیوا حادثات کی شرح میں 40 سے 50 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔