عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں

عالمی منڈی میں جمعرات کی صبح خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتیں گزشتہ 4 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔

کاروباری حلقوں کے مطابق قیمتوں میں اس بڑی گراوٹ کی بنیادی وجہ قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں ’مثبت پیش رفت‘ ہے، جس نے مارکیٹ سے سپلائی کے تعطل کا خوف ختم کر دیا ہے۔

برینٹ اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے نئے ریٹس

دوحہ میں ہونے والے 2 روزہ مذاکرات کے اختتام پر جمعرات کی صبح عالمی مارکیٹ کھلتے ہی برینٹ خام تیل کی قیمت 73 سینٹ یعنی 1.02 فیصد کمی کے بعد 70.65 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں پھر چڑھ گئیں،مذاکرات میں ڈیڈ لاک نے تیل مارکیٹ کو ہلا دیا

دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ’ڈبلیو ٹی آئی‘ خام تیل کی قیمت میں بھی 83 سینٹ یعنی 1.21 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 67.60 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ اماراتی مربن خام تیل کی 65.64 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈنگ جاری ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری سیشن میں بھی دونوں عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔

دوحہ مذاکرات کا ایجنڈا اور آبنائے ہرمز کی صورتحال

میڈیا رپورٹس کے مطابق دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی دو روزہ بالواسطہ گفتگو کا مرکزی موضوع آبنائے ہرمز سے بحری ٹریفک کی بحالی اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واگزاری تھا۔

گزشتہ ہفتے ایک مال بردار جہاز پر ایرانی حملے اور اس کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر کیے جانے والے حملوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پھیلی ہوئی تھی، تاہم اب بحری آمدورفت جزوی طور پر بحال ہو چکی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہے، اگرچہ انہوں نے اس کے قطعی اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔

ایران کا سخت موقف اور اگست سے ٹول ٹیکس کا نفاذ

دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے پرعزم ہے۔

مزید پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گرِ گئیں،پاکستان میں پیٹرول کتنا سستا ہوگا؟

ایران کی جانب سے یہ واضح اعلان سامنے آ چکا ہے کہ ابتدائی معاہدے کے تحت دی گئی ٹول فری مدت ختم ہونے کے بعد، اگست کے وسط سے وہاں سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں پر باقاعدہ ٹول ٹیکس عائد کیا جائے گا، جس سے خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ آ سکتا ہے۔

امریکی تیل کے ذخائر ستمبر 2018 کی کم ترین سطح پر

عالمی منڈی میں قیمتوں کی کمی کے برعکس، امریکا کے توانائی معلوماتی ادارے ’ای آئی اے‘ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں 38 لاکھ بیرل کی بڑی کمی دیکھی گئی۔

اس کمی کے بعد مجموعی امریکی ذخائر 408.4 ملین بیرل رہ گئے ہیں، جو کہ ستمبر 2018 کے بعد امریکی تاریخ کی کم ترین سطح ہے۔ عام طور پر ذخائر میں کمی سے قیمتیں بڑھتی ہیں، لیکن اس وقت ایران امریکا مذاکرات کا اثر مارکیٹ پر زیادہ حاوی ہے۔

آبنائے ہرمز کی اسٹرٹیجک اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کے مجموعی خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق جیسے بڑے پیدا کار ممالک اسی راستے سے اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں بھیجتے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے اس گزرگاہ پر کنٹرول اور جوہری پروگرام کے حوالے سے شدید تنازع چل رہا ہے، اور جب بھی اس خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔

کیا تیل کی قیمتیں مزید گریں گی؟

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت عالمی منڈی پر دباؤ دہرا ہے۔ ایک طرف آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے اور خام تیل کی مسلسل فراہمی کے باعث سپلائی چین مستحکم ہو رہی ہے، تو دوسری طرف اوپیک پلس کے رکن ممالک کے آئندہ اجلاس میں اگست کے لیے یومیہ تقریباً 1 لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی پیداوار کی منظوری دیے جانے کا قوی امکان ہے۔

اگر اوپیک پلس نے پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کیا اور امریکا ایران ڈیل فائنل ہو گئی، تو برینٹ خام تیل کی قیمتیں 65 ڈالر فی بیرل تک نیچے آ سکتی ہیں، جو عالمی معیشت اور خاص طور پر پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے والے ممالک کے لیے ایک بڑی ریلیف ثابت ہو گی۔

Related Articles