بالی ووڈ سپر اسٹار اجے دیوگن کی آنے والی فلم ’’چوہان‘‘ کا ٹیزر جاری ہوتے ہی تنازع کھڑا ہوگیا۔ سوشل میڈیا صارفین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقبوضہ کشمیر کی بعض سیاسی جماعتوں نے ٹیزر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ٹیزر میں ایک نوجوان کو احتجاج کے دوران پیلٹ گن سے زخمی ہوتے دکھایا گیا ہے، جبکہ پس منظر میں اجے دیوگن کی آواز سنائی دیتی ہے، جس میں ان زخموں کو(محدود نقصان) قرار دیا جاتا ہے۔
یہ مکالمہ منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پیلٹ گن سے متاثر ہونے والے ہزاروں کشمیریوں کی تکالیف اور مستقل معذوری کو اس انداز میں پیش کرنا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ متاثرین کے دکھ کو بھی کم کرکے دکھانے کے مترادف ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2010ء سے 2016ء کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 10 ہزار سے زائد افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے۔ صرف جولائی سے اکتوبر 2016ء کے احتجاجی مظاہروں کے دوران تقریباً 6 ہزار افراد متاثر ہوئے، جن میں 782 افراد کی آنکھوں پر پیلٹ لگے، جبکہ متعدد افراد ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے فلم کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ پیلٹ گن کے زخموں کو ’’محدود نقصان‘‘ قرار دینا ان ہزاروں نوجوانوں کی تکلیف کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے، جنہوں نے اپنی بینائی کھو دی۔
متعدد صارفین نے کشمیری متاثرین، جن میں حبا نثار اور انشاء مشتاق کے کیسز بھی شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیلٹ گن کے اثرات کو معمولی قرار دینا زمینی حقائق کے برعکس ہے۔
بعض ناقدین نے فلم کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اس کے موضوع اور ریلیز کے وقت پر بھی سوالات اٹھائے، جبکہ جموں و کشمیر کی بعض علاقائی سیاسی جماعتوں نے بھی ٹیزر پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس میں متاثرین کے حقیقی تجربات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، ایک تحقیقی مطالعے میں بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے افراد میں ذہنی صحت کے مسائل کی شرح زیادہ دیکھی گئی۔ تحقیق کے مطابق متاثرین میں ڈپریشن، ایڈجسٹمنٹ ڈس آرڈر، پینک ڈس آرڈر، پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر اور جنرلائزڈ اینگزائٹی ڈس آرڈر جیسے نفسیاتی مسائل عام پائے گئے ہیں۔
تاہم، فلم کے ٹیزر پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے اجے دیوگن یا فلم کی پروڈکشن ٹیم کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔