دنیا کے سرد ترین براعظم انٹارکٹیکا میں واقع مشہور ’بلڈ فالز‘کے حوالے سے ایک صدی سے زائد عرصے سے جاری معمہ حل ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ نئی سائنسی تحقیق کے مطابق یہ سرخ آبشار درحقیقت خون نہیں بلکہ آئرن سے بھرپور انتہائی نمکین پانی ہے، جو ایک منفرد قدرتی عمل کے باعث سرخ دکھائی دیتا ہے۔
انٹارکٹیکا کے میک مرڈو ڈرائی ویلیز میں واقع ٹیلر گلیشیئر سے بہنے والی تقریباً پانچ منزلہ سرخ آبشار اپنی غیرمعمولی رنگت کی وجہ سے برسوں سے سائنس دانوں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ پہلی نظر میں یہ آبشار خون کی طرح سرخ دکھائی دیتی ہے، جس کے باعث اسے ’بلڈ فالز‘ کا نام دیا گیا۔
رواں سال شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آبشار سے نکلنے والا مائع دراصل آئرن سے بھرپور انتہائی نمکین پانی (برائن) ہے، جو گلیشیئر کے نیچے لاکھوں برس سے موجود ایک قدیم ذخیرے سے برف کے دباؤ اور مسلسل حرکت کے نتیجے میں وقتاً فوقتاً سطح پر آتا رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب یہ آئرن سے بھرپور پانی ہوا کے رابطے میں آتا ہے تو اس میں موجود لوہا آکسیجن کے ساتھ مل کر آکسیڈائز ہو جاتا ہے۔ یہی عمل لوہے پر زنگ لگنے جیسا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں پانی گہرے سرخ رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے اور یوں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گلیشیئر سے خون بہہ رہا ہو۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق نے نہ صرف بلڈ فالز کی سرخ رنگت کی سائنسی وضاحت فراہم کی ہے بلکہ یہ انٹارکٹیکا کے برفانی نظام، زیرِ زمین پانی کے ذخائر اور انتہائی سخت موسمی حالات میں موجود قدرتی ماحول کو سمجھنے میں بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ آسٹریلوی ماہر ارضیات گریفتھ ٹیلر نے 1911 میں اس حیرت انگیز مقام کو دریافت کیا تھا۔ اس وقت سرخ رنگت کی اصل وجہ معلوم نہ ہونے کے باعث اسے ’بلڈ فالز‘ کا نام دیا گیا، اور گزشتہ ایک صدی سے یہ مقام سائنس دانوں کے لیے تحقیق اور عام لوگوں کے لیے تجسس کا باعث بنا ہوا تھا۔