امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کی تقریباً تمام اہم اور بنیادی شرائط قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے جسے انہوں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے ،امریکا خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور امید ہے کہ جلد کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے نزدیک ایران کی جانب سے لچک کا مظاہرہ ایک اہم پیش رفت ہے جو مستقبل میں بڑے سفارتی فیصلوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
اس سے قبل بھی امریکی صدر متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ تنازعات کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ بڑی جنگ کو روکا گیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
امریکا اور ایران کے درمیان اگر واقعی کوئی بامعنی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر بھی اس کے اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
فی الحال ایرانی حکومت کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم بین الاقوامی سطح پر اس بیان نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور سفارتی حلقے صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔