بیرونی مداخلت خطے کے امن کی سب سے بڑی رکاوٹ، عباس عراقچی کا دوٹوک مؤقف

بیرونی مداخلت خطے کے امن کی سب سے بڑی رکاوٹ، عباس عراقچی کا دوٹوک مؤقف

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا اور پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب خطے کے معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کا خاتمہ ہو اور علاقائی ممالک اپنے مسائل خود حل کریں۔

ایک بیان میں عباس عراقچی نے بحرین میں امریکی سینٹرل کمانڈ کی زیر قیادت ہونے والے اعلیٰ عسکری اجلاس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی موجودگی نے خطے میں امن کے بجائے بدامنی اور عدم استحکام کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی طاقتیں خود اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں اور خطے کو حقیقی امن فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ،ایران کے منجمند اثاثے جاری کر دئیے گئے ، عباس عراقچی

دوسری جانب بحرین میں امریکی سینٹرل کمانڈ کی میزبانی میں مشرقِ وسطیٰ کے اعلیٰ فوجی حکام کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے کی موجودہ سلامتی کی صورتحال، علاقائی استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں امریکا سمیت مشرقِ وسطیٰ کے بارہ ممالک نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو بلا تعطل جاری رکھنے اور اہم بحری گزرگاہ کے تحفظ کے لیے مشترکہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

 ہہ بھی پڑھیں :حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے ایران، امریکہ مذاکرات کے نئے دور کا جمعے سے آغاز ہوگا، عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب خطے میں سلامتی، بحری راستوں کے تحفظ اور بیرونی فوجی موجودگی کے حوالے سے مختلف ممالک کے درمیان سفارتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔

editor

Related Articles