عالمی منڈی کا رخ بدل گیا ، سونے کی قیمتوں نے نئی اڑان بھر لی

عالمی منڈی کا رخ بدل گیا ، سونے کی قیمتوں نے نئی اڑان بھر لی

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں فی اونس سونے کی قیمت 4200 ڈالر کی سطح کے قریب پہنچ گئی۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور امریکی معاشی اعداد و شمار کے باعث سرمایہ کاروں نے سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ترجیح دینا شروع کر دیا ہے۔

اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4,144.83 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جو 23 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح اگست میں فراہمی کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 4,157.50 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئے۔

ہفتہ وار بنیاد پر سونے کی قیمت میں تقریباً 1.2 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جو 25 مئی کے بعد پہلی ہفتہ وار بڑھوتری ہوگی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکی نان فارم پے رولز اور نجی شعبے میں ملازمتوں کے کمزور اعداد و شمار ہیں جنہوں نے مہنگائی اور طویل عرصے تک بلند شرح سود برقرار رہنے سے متعلق خدشات کو کم کیا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق امریکہ میں روزگار سے متعلق توقعات سے کمزور اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں اسی تبدیلی نے سونے کی طلب میں اضافہ کر دیا جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے کی صورت میں سونا سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش اثاثہ بن جاتا ہے کیونکہ اس ماحول میں دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع نسبتاً کم منافع بخش تصور کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں نے حالیہ دنوں میں سونے کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان خبردار، آج سے بڑا کریک ڈاؤن شروع

 توانائی کی عالمی قیمتوں میں کمی اور روزگار کے کمزور اعداد و شمار اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ مہنگائی کے دباؤ میں کمی آ سکتی ہے جس سے سونے کی قیمتوں کو مزید سہارا مل رہا ہے۔ اگر آئندہ بھی امریکی معاشی اشاریے کمزور رہے تو عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں مزید تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

دوسری جانب سرمایہ کاروں کی نظریں اب فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس مہنگائی سے متعلق نئے اعداد و شمار اور امریکی معیشت کی مجموعی کارکردگی پر مرکوز ہیں کیونکہ یہی عوامل آئندہ دنوں میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کی سمت کا تعین کریں گے۔

editor

Related Articles