بلوچستان کے علاقے ژوب میں مسافر بس کھائی میں گرنے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق حادثہ ژوب کے علاقے داناسر میں پیش آیا، جہاں بس بریک فیل ہونے کے باعث کھائی میں جا گری۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنہیں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا امور شاہد رند نے اپنے بیان میں بتایا کہ بس حادثے میں 40 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی ہے جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے میں پیش آیا۔
شاہد رند کے مطابق حادثے کے مقام پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا حکومت کی ریسکیو سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ پی ڈی ایم اے، محکمہ صحت، ایف سی اور دیگر ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے فوری اقدامات میں معاونت پر خیبرپختونخوا حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس میں معمول سے زیادہ مسافر سوار تھے، جبکہ حادثے کا شکار بس میں پیچھے خراب ہونے والی ایک دوسری بس کے مسافر بھی سوار تھے۔ ان کے بقول ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ افسران حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
شاہد رند نے کہا کہ جاں بحق افراد کی شناخت اور زخمیوں کے علاج کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہے اور حادثے کی مکمل تحقیقات کے بعد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
دریں اثنا صدر مملکت آصف علی زرداری نے ژوب شیرانی شاہراہ پر مسافر بس حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت کی۔ صدر مملکت نے متعلقہ اداروں کو زخمیوں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس اندوہناک سانحے پر پوری قوم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔